واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ایک اہم ایگزیکٹو آرڈر پر دستخط کر دیے ہیں، جس کے تحت امریکہ میں بچوں کو دی جانے والی روایتی ویکسینز کی فہرست میں بڑی تبدیلیاں اور ان کی تعداد کم کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
نئے صدارتی حکم نامے کے تحت تمام بچوں کے لیے لازمی قرار دی جانے والی بنیادی ویکسینز کی تعداد 17 سے گھٹا کر 11 کر دی گئی ہے، جبکہ ایم ایم آر (MMR – خسرہ، کنفیڑے اور روبیلا) کی مشترکہ ویکسین کو تین الگ الگ انجیکشنز میں تقسیم کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔
ایگزیکٹو آرڈر کی اہم نکات:
صدر ٹرمپ کے اعلان کے مطابق، امریکی انتظامیہ اب صرف 11 انتہائی مہلک اور خطرناک بیماریوں کے خلاف ویکسینز کو “گولڈ اسٹینڈرڈ” تسلیم کرے گی۔
اختیاری زمرے میں منتقل کی گئی ویکسینز: فلو (Influenza)، کووڈ-19 (COVID-19)، روٹا وائرس (Rotavirus)، ہیپاٹائٹس A اور ہیپاٹائٹس B کی ویکسینز کو اب بچوں کے انفرادی طبی خطرات اور والدین و ڈاکٹرز کے باہمی فیصلے سے مشروط کر دیا گیا ہے۔
حکم نامے میں سب سے بڑی تبدیلی ایم ایم آر ویکسین سے متعلق ہے۔ صدر نے ہدایت کی ہے کہ خسرہ، کنفیڑے اور روبیلا کی مشترکہ ویکسین کے بجائے ان تینوں کی الگ الگ خوراکیں مختلف طبی دوروں (Visits) میں دی جائیں۔
اس وقت امریکہ میں ان تینوں بیماریوں کے لیے الگ الگ یکتا ویکسینز دستیاب نہیں ہیں، جس پر جلد کام شروع کرنے کی ہدایت کی گئی ہے۔
امریکی صدر کے اس فیصلے پر صحت کے عالمی ماہرین اور طبی تنظیموں کی جانب سے شدید تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔
اے اے پی کے صدر ڈاکٹر اینڈریو ریسین (Dr. Andrew Racine) نے کہا کہ یہ ایگزیکٹو آرڈر والدین میں غیر ضروری خوف اور الجھن کا باعث بنے گا۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ ایک سے زائد ویکسینز کو الگ الگ دینے سے بچے طویل عرصے تک بیماریوں سے غیر محفوظ رہیں گے، جس سے ان بیماریوں کا پھیلاؤ دوبارہ شروع ہو سکتا ہے۔
کوئی سائنسی ثبوت نہیں: طبی ماہرین نے واضح کیا کہ دہائیوں کی تحقیق سے ثابت ہو چکا ہے کہ ایم ایم آر ویکسین اور آٹزم یا دیگر مسائل کے درمیان کوئی سائنسی تعلق نہیں ہے۔
صدارتی حکم نامے کے باوجود فوری طور پر ریاستوں کے اسکول سیکیورٹی اور ویکسین قوانین تبدیل نہیں ہوں گے۔
امریکہ میں اسکولوں میں داخلے کے لیے ویکسینز کا تعلیمی لازمی معیار ریاستوں کے اختیار میں ہوتا ہے۔
مثال کے طور پر ریاست نیویارک کے محکمہ صحت نے تعلیمی سال 2026-2027 کے لیے اپنے موجودہ ویکسینیشن قوانین کو بحال رکھا ہے جہاں ایم ایم آر، پولیو اور دیگر ویکسینز اسکولوں میں داخلے کے لیے لازمی ہیں۔
والدین کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ اپنے بچوں کی ویکسینیشن کے حوالے سے اپنے چائلڈ اسپیشلسٹ (Pediatrician) سے مشورہ کریں۔





