نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی شہر نیویارک میں اسکول کے طلبہ نے میٹروپولیٹن ٹرانسپورٹیشن اتھارٹی (MTA) اور نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف ایجوکیشن کی جانب سے فراہم کیے جانے والے سفری OMNY کارڈز کی ناقص کوالٹی کے خلاف سٹی ہال کے باہر احتجاج کیا ہے۔
طلبہ کا کہنا ہے کہ اسکولوں کے ذریعے جاری کیے جانے والے یہ کارڈز کاغذی ہوتے ہیں، جو چند ہی دنوں کے روزمرہ استعمال سے گل سڑ جاتے ہیں اور کام کرنا چھوڑ دیتے ہیں، جس کے باعث طلبہ کو جیب سے پیسے خرچ کر کے اسکول جانا پڑتا ہے۔
سٹی کونسل ممبر ہاروی ایپسٹین (Harvey Epstein) کے ساتھ کام کرنے والی ایک یوتھ کونسل نے 700 کے قریب طلبہ کا سروے کیا:
سروے میں شامل 88 فیصد طلبہ نے شکایت کی کہ عام استعمال سے ہی ان کا کاغذی OMNY کارڈ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو جاتا ہے۔
نئے کارڈ کا متبادل آنے میں تین ہفتے تک کا وقت لگتا ہے، جس دوران طلبہ کو سفر کے لیے تقریباً 250 ڈالر اپنی جیب سے ادا کرنے پڑتے ہیں۔
طلبہ کی شکایات اور بڑھتے ہوئے عوامی دباؤ کے بعد ایم ٹی اے کی چیف کسٹمر آفیسر شنیفہ ریئرا (Shanifah Rieara) نے درج ذیل اقدامات کا اعلان کیا ہے:
رواں تعلیمی سال کے لیے طلبہ کو موجودہ کاغذی کارڈز کی حفاظت کے لیے شفاف پلاسٹک کور دیے جائیں گے۔
ایم ٹی اے رواں سال ایک پائلٹ پروجیکٹ شروع کر رہا ہے جس کے تحت طلبہ عام مسافروں کی طرح اپنے اسمارٹ فونز سے بھی سفر کے لیے ‘ٹیپ’ کر سکیں گے۔
پائیدار پلاسٹک کارڈز (2027-2028): 2027-2028 کے تعلیمی سال سے تمام طلبہ کو سخت اور پائیدار پلاسٹک کے دائمی OMNY کارڈز جاری کیے جائیں گے۔
MTA کے چیئرمین جینو لیبر (Janno Lieber) نے کہا کہ طلبہ کو روزانہ 4 مفت دوروں کے ساتھ سال کے 365 دن سفر کی سہولت فراہم کی گئی ہے تاکہ وہ تعلیم کے ساتھ آفٹر اسکول سرگرمیوں اور انٹرن شپس میں بھی حصہ لے سکیں، اور اداروں کی ترجیح طلبہ کے سفر کو آسان بنانا ہے۔





