نیویارک: نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) اور اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز (Letitia James) نے وفاقی امیگریشن حکام کے ساتھ قانونی معاہدے ختم کرنے کے احکامات پر عمل نہ کرنے والی قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کے خلاف قانونی کارروائی کا انتباہ دیا ہے۔
حکام کے مطابق، گورنر اور اٹارنی جنرل نے ریاست کی 12 قانون نافذ کرنے والی ایجنسیوں کو امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ساتھ اپنے 287(g) سول انفورسمنٹ معاہدے ختم کرنے کی ہدایت کی تھی۔ تاہم، نیا قانون نافذ العمل ہونے میں صرف 11 دن باقی رہنے کے باوجود اب تک صرف 5 ایجنسیوں نے معاہدے ختم کرنے کی تصدیق کی ہے، جبکہ 7 ایجنسیوں نے ابھی تک اس پر عمل درآمد کا اشارہ نہیں دیا۔
حکم پر عمل نہ کرنے والی ایجنسیوں میں لانگ آئی لینڈ کی ناساؤ کاؤنٹی شیرف آفس (Nassau County Sheriff’s Office) اور پولیس ڈیپارٹمنٹ بھی شامل ہیں۔
“قانون کی پاسداری کرنا ہوگی”: جج اور اٹارنی جنرل کا مشترکہ بیان
جمعتہ المبارک کو جاری کردہ اپنے ایک مشترکہ بیان میں گورنر کیتھی ہوچل اور اٹارنی جنرل لیٹیشیا جیمز نے کہا “نیویارک کے شہریوں کی حفاظت ہماری اولین ترجیح ہے۔ اسی لیے نیویارک نے یہ قوانین منظور کیے ہیں، اور ہم ان کا نفاذ یقینی بنائیں گے۔ ہم وفاقی حدود سے تجاوز کا مقابلہ کرتے رہیں گے۔ ہمارا کام قانون نافذ کرنا ہے اور ہم یہی کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔”
گورنر ہوچل نے خبردار کیا ہے کہ 26 اگست کو جب نیا قانون باقاعدہ طور پر نافذ ہو جائے گا، تو ICE کے ساتھ معاہدے ختم نہ کرنے والے پولیس ڈیپارٹمنٹس کو سنگین قانونی نتائج کا سامنا کرنا پڑے گا۔
287(g) معاہدہ مقامي پولیس اور شیرف کے اہلکاروں کو ICE کی نگرانی میں امیگریشن سے متعلق مخصوص اختیارات استعمال کرنے کی اجازت دیتا ہے، جس میں یہ تین ماڈلز شامل ہیں:
جیل انفورسمنٹ ماڈل: زیرِ حراست افراد کے خلاف امیگریشن کارروائی۔
ٹاسک فورس ماڈل: روزمرہ کے پولیس گشت یا ٹاسک فورس کے دوران امیگریشن اختیارات کا استعمال۔
وارنٹ سروس آفیسر ماڈل: اپنی حراست میں موجود افراد کو انتظامی وارنٹ تعمیل کروانا۔
ناساؤ کاؤنٹی کے ایگزیکٹو بروس بلیک مین (Bruce Blakeman) نے ہوچل کے اس اقدام کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کمیونٹیز “کم محفوظ” ہو جائیں گی۔ تاہم، تارکینِ وطن کے حقوق کے لیے کام کرنے والے رہنماؤں کا کہنا ہے کہ ان معاہدوں کے خاتمے سے اسکولوں، ہسپتالوں اور عبادت گاہوں جیسی حساس جگہوں پر لوگوں کو بہتر تحفظ فراہم کرنے میں مدد ملے گی۔





