نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک شہر کے سب سے زیادہ تارکینِ وطن آبادی والے ضلع کوئنز (Queens) میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائیوں اور چھاپوں میں اچانک اضافے کے خلاف شہری حقوق کی تنظیموں، مقامی رہائشیوں اور منتخب نمائندوں نے شدید احتجاج کرتے ہوئے ان کارروائیوں کو فوری روکنے کا مطالبہ کیا ہے۔
مہاجرین کے حقوق کے لیے کام کرنے والی تنظیموں کے مطابق گزشتہ دو ہفتوں کے دوران آئی سی ای (ICE) نے کوئنز کے علاقوں ایلم ہرسٹ (Elmhurst)، ایسٹ ایلم ہرسٹ (East Elmhurst)، کالج پوائنٹ (College Point) اور کورونا (Corona) میں اپنی سرگرمیاں اور گشت غیر معمولی طور پر بڑھا دیا ہے۔
پیر کو منعقدہ ایک احتجاجی ریلی سے خطاب کرتے ہوئے تنظیم ’میک دی روڈ نیویارک‘ (Make the Road New York) کی سول رائٹس اینڈ امیگریشن لیڈ آرگنائزر لوبا کورٹیز (Luba Cortés) نے کہا “پچھلے چند ہفتوں میں آئی سی ای نے ہمارے محلو ں میں اپنی موجودگی بڑھا دی ہے۔ حیرت کی بات نہیں کہ وہ دنیا کے سب سے زیادہ تنوع والے علاقے کوئنز کو نشانہ بنا رہے ہیں، جہاں کی آدھی سے زیادہ آبادی دوسرے ملکوں میں پیدا ہوئی ہے۔ ہمیں اس جبر کے سامنے ایک دوسرے کی حفاظت کرنی ہوگی۔”
نیویارک سٹی ڈیپارٹمنٹ آف پلاننگ اور میئر زوہران مامدانی (Zohran Mamdani) کے دفتر سے جاری کردہ نقشے کے مطابق کوئنز کے کئی علاقوں جیسے کہ کورونا، ایلم ہرسٹ، جیکسن ہائٹس، فلشنگ اور کالج پوائنٹ کی 50 فیصد سے زائد آبادی تارکینِ وطن پر مشتمل ہے۔
ڈسٹرکٹ 34 سے نیویارک سٹیٹ اسمبلی کی رکن گونزالیز روزاس (González-Rojas) نے آئی سی ای کی کارروائیوں کی سخت مذمت کرتے ہوئے کہا “نیویارک میں ہمیں دھمکا کر خاموش نہیں کرایا جا سکتا۔ ہم اپنے پڑوسیوں اور مہاجر خاندانوں کا دفاع کریں گے۔ ہم ایک ایسے مستقبل کے لیے لڑیں گے جہاں ہر شخص—خواہ اس کا امیگریشن سٹیٹس کچھ بھی ہو—محفوظ، آزادانہ اور باوقار زندگی بسر کر سکے۔”
حقوقِ انسانی کے رہنماؤں نے شہریوں پر زور دیا ہے کہ وہ مقامی برادریوں کے ساتھ رابطے میں رہیں اور کسی بھی آئینی یا قانونی خلاف ورزی پر ایک دوسرے کی مدد کریں۔





