لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

عالمی سطح پرامتحانات کابحران: اےآئی کے ذریعےنقل، پیپرلیکس اورحکومتی ناکامیوں کے خلاف بھارت،میکسیکواورپرتگال میں شدیداحتجاج

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): عالمی سطح پر تعلیمی امتحانات کا نظام شدید ترین بحران کا شکار ہو گیا ہے۔ جس موسم کو عام طور پر گھروں میں خاموش ذہنی تناؤ کا دور سمجھا جاتا تھا، وہ رواں سال مصنوعی ذہانت (AI) کے ذریعے نقل، ناکام ڈیجیٹلائزیشن اور پیپر لیکس کے باعث متعدد ممالک میں عوامی احتجاج اور مظاہروں کی شکل اختیار کر چکا ہے۔

تعلیمی ماہرین کے مطابق غیر یقینی عالمی معیشت میں اچھے نمبروں کی ضرورت، آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) کا بڑھتا استعمال اور اداروں کی جانب سے جلد بازی میں ڈیجیٹلائزیشن اس بحران کی بنیادی وجوہات ہیں۔

بھارت میں پیپر لیک اور سیاسی زلزلہ: بھارت میں امتحانی پرچے لیک ہونے سے لاکھوں طلبہ کا مستقبل داؤ پر لگ گیا، جبکہ اس صدمے سے ایک درجن سے زائد طلبہ نے خودکشی کر لی۔ اس سانحے کے بعد ملک گیر احتجاج شروع ہوا جس کے نتیجے میں بھارتی وزیرِ تعلیم کو مستعفی ہونا پڑا۔ یوتھ کیپمپین ‘کاک روچ جنتا پارٹی’ کے زیرِ اہتمام مظاہروں نے نریندر مودی کی حکومت کے لیے سنگین چیلنج کھڑا کر دیا ہے۔

پرتگال کے وزیرِ تعلیم فرنانڈو الیگزینڈر کی جانب سے امتحانی پرچوں کی مکمل ڈیجیٹل مارکنگ کا تجربہ ناکام ہو گیا، جس سے مارکنگ میں شدید غلطیاں سامنے آئیں۔ اس پر اساتذہ، والدین اور طلبہ نے وزیرِ تعلیم کے استعفے کا مطالبہ کرتے ہوئے ملک گیر مظاہرے شروع کر دیے ہیں۔

میکسیکو کی یونیورسٹی میں 58 ہزار طلبہ کا دوبارہ امتحان: میکسیکو کی نامور یونیورسٹی (UNAM) میں داخلہ امتحانات کے دوران غیر معمولی نمبرز اور بڑے پیمانے پر نقل کے شکوک کے بعد 58,000 سے زائد امیدواروں کے امتحانات منسوخ کر کے انہیں دوبارہ ٹیسٹ دینے کا حکم دیا گیا ہے۔

یونیورسٹی آف کیلگری کی ماہرِ تعلیم ڈاکٹر سارہ ایٹن کا کہنا ہے کہ جب صرف ایک امتحان کسی نوجوان کے پورے مستقبل کا فیصلہ کرتا ہے تو نقل انفرادی حرکت سے بڑھ کر ایک منظم جرم یا “ایجوکیشن مافیا” کا روپ دھار لیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اے آئی (AI) چند سیکنڈز میں بہترین مضمون لکھ سکتا ہے، جس کے باعث روایتی مضامین اب سیکھنے کا معیار نہیں رہے۔ ڈنمارک نے اس سے نمٹنے کے لیے نئے تعلیمی سال سے تحریری مقالوں کے ساتھ زبانی دفاع (Verbal Defence) لازم قرار دے دیا ہے۔

امپیریل کالج لندن کے کمپیوٹر سائنسدان ڈاکٹر تھامس لنکاسٹر کے مطابق اب نقل آستین پر لکھے نوٹس تک محدود نہیں رہی بلکہ یہ “جاسوسی ٹیکنالوجی” (Spy Technology) بن چکی ہے، جہاں طلبہ امتحان کے دوران ایئر پیس، مائیکرو کیمروں اور اے آئی ٹولز کا استعمال کر رہے ہیں۔