لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

Explosive Device Scare Near Gracie Mansion Leads to Arrests and FBI Investigation

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): امریکہ کے شہر نیویارک میں میئر زوہران ممدانی کی سرکاری رہائش گاہ گریسی مینشن کے باہر ہونے والے پرتشدد احتجاج کے بعد صورتحال کشیدہ ہو گئی۔ پولیس نے مشکوک دھماکہ خیز مواد برآمد ہونے کے بعد علاقے کو گھیرے میں لے لیا جبکہ ایف بی آئی نے واقعے کی ممکنہ دہشت گردی کے پہلو سے تحقیقات شروع کر دی ہیں۔

پولیس کے مطابق اتوار کی دوپہر نیویارک پولیس کے بم ڈسپوزل اسکواڈ نے اپر ایسٹ سائیڈ میں ایک مشکوک سیاہ گاڑی کی تلاشی لی۔ یہ گاڑی ایسٹ اینڈ ایونیو پر 81 اور 82 اسٹریٹس کے درمیان کھڑی تھی۔ تلاشی کے دوران گاڑی سے ایک مشتبہ آلہ برآمد کیا گیا جسے حفاظتی اقدامات کے تحت محفوظ مقام پر منتقل کر دیا گیا۔

اس سے ایک روز قبل ہفتہ کے روز گریسی مینشن کے باہر اس وقت ہنگامہ آرائی شروع ہوئی جب دو مخالف گروپ آمنے سامنے آ گئے۔

پہلا گروپ دائیں بازو کے انتہا پسند کارکن جیک لینگ کی قیادت میں تقریباً 20 اسلام مخالف مظاہرین پر مشتمل تھا، جبکہ دوسرا گروپ نسل پرستی کے خلاف سرگرم تقریباً 125 جوابی مظاہرین پر مشتمل تھا۔

پولیس حکام کے مطابق احتجاج کے دوران جیک لینگ کے حامیوں نے پیپر اسپرے کا استعمال کیا، جس کے بعد جوابی مظاہرین کی جانب سے مبینہ طور پر دھماکہ خیز آلہ پھینکا گیا۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں آگ اور دھوئیں کے بادل فضا میں بلند ہوتے دیکھے گئے۔

پولیس نے واقعے کے سلسلے میں اب تک 6 افراد کو گرفتار کیا ہے۔ اہم ملزمان میں امیر بلات (18 سال): جس پر پہلا دھماکہ خیز آلہ پھینکنے کا الزام ہے۔
ابراہیم قیومی (19 سال): جس پر دوسرا آلہ فراہم کرنے کا الزام عائد کیا گیا ہے۔

نیویارک کے میئر زوہران ممدانی نے واقعے کی شدید مذمت کرتے ہوئے کہا کہ سفید فام بالادستی کے حامی جیک لینگ نے نفرت اور تعصب پر مبنی احتجاج منظم کیا۔ ان کے مطابق نیویارک میں ایسی نفرت کی کوئی جگہ نہیں جبکہ احتجاج کے دوران تشدد اور دھماکہ خیز مواد استعمال کرنے کی کوشش ایک سنگین اور مجرمانہ عمل ہے۔

ادھر ایف بی آئی نے واقعے کی ممکنہ دہشت گردی کے طور پر تفتیش شروع کر دی ہے۔ میئر اور پولیس کمشنر پیر کی صبح 9 بجے ہونے والی پریس کانفرنس میں مزید تفصیلات فراہم کریں گے۔