لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

بل گیٹس کی بیٹی فیبی گیٹس مشکل میں: ڈیجیٹل اسٹارٹ اپ’فیا’پر’کوکی اسٹفنگ’ اورفراڈ کےسنگین الزامات

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

کیلیفورنیا / نیویارک: مائیکروسافٹ کے بانی اور معروف امریکی ارب پتی بل گیٹس کی 23 سالہ بیٹی فیبی گیٹس (Phoebe Gates) اپنے ڈیجیٹل شاپنگ اسٹارٹ اپ ’فیا‘ (Phia) کے حوالے سے سامنے آنے والے ’کوکی اسٹفنگ‘ (Cookie Stuffing) کے الزامات کے بعد شدید تنازع کی زد میں آ گئی ہیں۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق فیبی گیٹس نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی کی اپنی سابقہ ساتھی صوفیا کیانی (Sophia Kianni) کے ساتھ مل کر ’فیا‘ نامی پلیٹ فارم قائم کیا تھا، جو آن لائن شاپنگ کے دوران صارفین کو ڈسکاؤنٹ آفرز اور مصنوعات کی تلاش میں مدد فراہم کرتا ہے۔

رپورٹس کے مطابق ‘فیا’ کے کچھ فیچرز صارفین کے ویب براؤزرز میں ایسی خفیہ کوکیز داخل کر دیتے تھے، جس سے کمپنی کو ان خریداریاں پر بھی افیلی ایٹ کمیشن مل جاتا تھا جن میں اس کا کوئی کردار نہیں تھا۔

اس غیر قانونی عمل کو ٹیکنالوجی کی دنیا میں ’کوکی اسٹفنگ‘ کہا جاتا ہے۔ امریکی قانونی ماہرین کے مطابق اگر ایسے وفاقی جرائم ثابت ہو جائیں تو قانون کے تحت 20 سال تک قید کی سزا ہو سکتی ہے، تاہم فیبی گیٹس کو ابھی ایسی کسی سزا سنائے جانے کا فیصلہ نہیں ہوا۔

آمدنی میں ڈرامائی کمی:خرابی’ قرار دیتے ہوئے متعلقہ فیچرز کو بلاک کر دیا۔ اس متنازعہ فیچر کے بند ہوتے ہی ‘فیا’ کی یومیہ آمدنی 80 ہزار ڈالرز سے گر کر صرف 10 ہزار سے 28 ہزار ڈالرز کے درمیان رہ گئی۔

اس تنازع کے بعد اسٹینفورڈ یونیورسٹی کے سابق ساتھیوں نے فیبی گیٹس کی ٹیکنیکی اور کوڈنگ کی صلاحیتوں پر بھی سوالات اٹھا دیے ہیں:

سابق ساتھیوں کے مطابق فیبی نے اسٹینفورڈ یونیورسٹی سے ‘ہیومن بائیولوجی’ میں تعلیم حاصل کی ہے، جس کے لیے کمپیوٹر سائنس یا ایڈوانس کوڈنگ کے کورسز لازمی نہیں تھے۔

جب فیبی اور صوفیہ نے اسٹارٹ اپ کا اعلان کیا تھا تو کمپیوٹر سائنس کے طلبہ نے ان کی کوڈنگ کی صلاحیتوں پر شک ظاہر کیا تھا۔ بعد میں فیبی نے اپلائیڈ AI اور انٹرپرینیورشپ کی ایک کلاس لی جس نے اس اسٹارٹ اپ کو بنانے میں مدد دی۔