ڈھاکہ : بنگلہ دیش کی حکومت نے بھارت پر اپنے موقف کو مزید سخت کرتے ہوئے واضح کیا ہے کہ وزیراعظم طارق رحمان اس وقت تک بھارت کا کوئی دورہ نہیں کریں گے جب تک سابق وزیراعظم شیخ حسینہ واجد اور دیگر مفرور افراد کو ڈھاکہ کے حوالے نہیں کیا جاتا۔
غیر ملکی خبر ایجنسی کے مطابق بنگلہ دیشی وزارتِ خارجہ کے سینئر عہدیدار اے کے ایم شاہدول کریم (AKM Shahidul Karim) نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم طارق رحمان کے ممکنہ دورۂ بھارت کی افواہوں کو رد کر دیا۔ انہوں نے کہا کہ “ہمارا موقف ہے کہ وزیراعظم کے دورے کے لیے پہلے سازگار ماحول کا ہونا ضروری ہے، اور بھارتی حکام کو چاہیے کہ وہ شیخ حسینہ کی واپسی کے لیے کوششیں تیز کریں۔”
وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے بتایا کہ دونوں ممالک کے درمیان رابطے جاری تھے، لیکن انسانیت کے خلاف جرائم پر سزا یافتہ ہونے کے باوجود بھارت میں بیٹھ کر شیخ حسینہ واجد کی میڈیا پر کھلے عام بیان بازی سے معاملات بگڑ گئے ہیں۔
بنگلہ دیشی حکومت اب اپنی خارجہ پالیسی میں “پہلے بنگلہ دیش” منصوبے پر عمل پیرا ہے، جو مکمل خودمختاری، بیرونی عدم مداخلت اور باہمی سود مند تعلقات پر مبنی ہے۔
جولائی 2024 میں طلبہ کی شدید تحریک کے بعد شیخ حسینہ واجد بھارت فرار ہو گئی تھیں۔ بعد ازاں بنگلہ دیشی عدالت نے انہیں قتل اور انسانیت کے خلاف جرائم پر سزائے موت سنائی، جس کے بعد ان کی حوالگی کے لیے بھارت سے متعدد بار رابطہ کیا گیا۔
2026 کے عام انتخابات کے بعد فروری میں منصب سنبھالنے والے وزیراعظم طارق رحمان نے ماضی کی روایت کے برعکس اپنے پہلے غیر ملکی دورے کے لیے بھارت کے بجائے چین اور ملائیشیا کا انتخاب کیا، جو ڈھاکہ اور نئی دہلی کے درمیان جاری سفارتی سردمہری کا واضح ثبوت ہے۔





