واشنگٹن: امریکہ میں وفاقی حکومت کی جزوی معطلی (Shutdown) کے باعث پیدا ہونے والے سفری بحران سے نمٹنے کے لیے صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے TSA ایجنٹوں کی ہنگامی تنخواہوں کی منظوری دے دی ہے، تاہم بڑے ایئرپورٹس پر مسافروں کو اب بھی شدید مشکلات کا سامنا ہے۔
ذرائع کے مطابق محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کی فنڈنگ رکنے کے باعث ہزاروں اہلکار گزشتہ 44 دنوں سے بغیر تنخواہ کے کام کر رہے تھے، جو کہ امریکی تاریخ کا طویل ترین شٹ ڈاؤن بن گیا ہے۔
ICE ایجنٹوں کی تعیناتی اور دورانیہ
سیکیورٹی لائنوں کو کم کرنے کے لیے امیگریشن اینڈ کسٹم انفورسمنٹ (ICE) کے ایجنٹوں کو بھی ایئرپورٹس پر تعینات کیا گیا ہے۔
بارڈر چیف ٹام ہومن کے مطابق، آئی سی ای ایجنٹ تب تک ایئرپورٹس پر رہیں گے جب تک ٹی ایس اے کے آپریشنز مکمل طور پر معمول پر نہیں آ جاتے۔
رپورٹ کے مطابق شٹ ڈاؤن کے دوران اب تک تقریباً 500 ٹی ایس اے افسران ملازمت چھوڑ چکے ہیں۔
حکام کو امید ہے کہ پیر یا منگل تک اہلکاروں کو ان کے واجبات ملنا شروع ہو جائیں گے۔ چارلوٹ ڈگلس انٹرنیشنل ایئرپورٹ سمیت کئی اداروں نے تصدیق کی ہے کہ بیک پے (Backpay) کا عمل شروع کر دیا گیا ہے۔
اٹلانٹا، بالٹیمور اور لاگارڈیا جیسے مصروف ایئرپورٹس نے مسافروں کو ہدایت کی ہے کہ وہ اپنی پرواز سے کئی گھنٹے پہلے ایئرپورٹ پہنچیں۔
اگرچہ صورتحال بہتر ہو رہی ہے، لیکن عملے کی کمی کی وجہ سے سیکیورٹی چیک پوائنٹس پر طویل قطاریں اب بھی موجود ہیں۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک ملازمین کو مستقل مالی تحفظ کا یقین نہیں دلایا جاتا، ایئرپورٹس پر معمولات کی مکمل واپسی میں ایک سے دو ہفتے لگ سکتے ہیں۔





