واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ نے ملک گیر سطح پر سخت اقدام اٹھاتے ہوئے 1 لاکھ 75 ہزار سے زائد غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کر دیے ہیں۔
امریکی محکمہ خارجہ کے مطابق ان ویزوں کی منسوخی کی بنیادی وجہ ویزا شرائط کی خلاف ورزی، مختلف جرائم میں ملوث ہونا اور امریکی شہریوں کے خلاف تشدد پر اکسانا ہے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے بتایا کہ منسوخ کیے گئے ویزوں کی اکثریت کا تعلق قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ پیش آنے والے واقعات اور جرائم سے ہے۔ دوسری جانب امیگریشن وکلا نے اس سخت رویے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ انتظامیہ نے معمولی خلاف ورزیوں یا ایسے الزامات پر بھی ویزے منسوخ کیے جو ابھی عدالتوں میں ثابت بھی نہیں ہوئے تھے۔
جاری کردہ اعداد و شمار کے مطابق سال 2026 کے دوران ہر ماہ 10 ہزار سے زائد ویزے منسوخ کیے گئے، جبکہ اس کے مقابلے میں پورے سال 2025 میں کل 8 ہزار سے زائد ویزے منسوخ ہوئے تھے۔ یاد رہے کہ ٹرمپ انتظامیہ نے جنوری میں اعلان کیا تھا کہ گزشتہ سال کے دوران 1 لاکھ سے زیادہ ویزے منسوخ کیے گئے تھے۔
نشے کی حالت میں گاڑی چلانا (DUI)، چوری، منشیات کی خرد برد، اور لاپرواہی سے ڈرائیونگ۔
جنسی حملے، کمسن بچوں سے بدسلوکی، انسانی اسمگلنگ، فراڈ، اور اغوا۔
ایسے متعدد غیر ملکی شہریوں کے ویزے منسوخ کیے گئے جنہوں نے ستمبر 2025 میں معروف امریکی دائیں بازو کے کارکن چارلی کرک (Charlie Kirk) کے قتل پر خوشی کا اظہار کیا تھا۔
شمالی افریقہ میں امریکی سفارت خانے نے 100 سے زائد ایسے والدین کے ویزے منسوخ کیے جو صرف اس مقصد کے لیے امریکہ آئے تھے تاکہ ان کے بچوں کو پیدائشی امریکی شہریت مل سکے۔
امریکی محکمہ خارجہ نے واضح کیا کہ صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) کی قیادت میں ایسے تمام غیر ملکی شہریوں کے ویزوں کی نشاندہی، تحقیقات اور منسوخی کا عمل جاری رہے گا جو امریکی عوام کے لیے خطرہ ہیں۔
محکمہ خارجہ نے اپنے حتمی بیان میں زور دیا “امریکی ویزا حاصل کرنا ایک اعزاز (Privilege) ہے، کوئی بنیادی حق نہیں! ہماری وزارت اس اعزاز کا غلط استعمال کرنے والوں سے اپنی برادریوں کے تحفظ کے لیے تمام دستیاب قانونی ذرائع استعمال کرنے کے عزم پر قائم ہے۔”





