اقوامِ متحدہ / نیویارک (ویب ڈیسک) پاکستان نے اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں عالمی انسانی حقوق کے قوانین (IHL) کے تحت جنگی قیدیوں (Prisoners of War) کو ہر قسم کے سوءِ سلوک سے محفوظ رکھنے اور تمام فریقین کو اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں نبھانے کا پرزور مطالبہ کیا ہے۔
اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے کونسلر کامران تاج نے لٹویا (Latvia) اور برطانیہ (UK) کے زیرِ اہتمام آریا فارمولا (Arria Formula) کے تحت “روس-یوکرین جنگ کے تناظر میں بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین پر عمل درآمد: جنگی قیدی، شہری قیدی اور غیر ملکی جنگجو” کے عنوان سے منعقدہ اجلاس میں پاکستان کی جانب سے اہم بیانیہ پیش کیا۔
پاکستان نے متحدہ عرب امارات (UAE)، قطر (Qatar) اور ترکیہ (Turkiye) کی جانب سے روس اور یوکرین کے درمیان جنگی قیدیوں کے باقاعدہ تبادلے کی سہولت کاری کی تعریف کی۔
پاکستان کا موقف: پاکستان نے اس سفارتی کوشش کو ایک مثبت اور درست سمت میں اٹھایا گیا قدم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے انسانی بنیادوں پر جاری بحران کی شدت میں کمی آسکتی ہے۔
کونسلر کامران تاج نے اپنے بیان میں روس اور یوکرین کے درمیان جاری جنگ کو فوری ختم کرنے کی ضرورت پر زور دیا:
“ہم اس تنازع کے فوری خاتمے اور اقوامِ متحدہ کے چارٹر، بین الاقوامی قوانین اور متعلقہ کثیر الجہتی معاہدوں کے عین مطابق ایک عادلانہ اور پائیدار حل کے اپنے مطالبے کا اعادہ کرتے ہیں، جو تمام فریقین کے جائز سیکیورٹی خدشات اور مفادات سے مطابقت رکھتا ہو۔”
پاکستان نے ایک بار پھر واضح کیا ہے کہ کسی بھی پائیدار حل کے لیے ضروری ہے کہ عالمی قوانین کا احترام کیا جائے اور تمام ممالک کی خودمختاری اور تحفظ کا خیال رکھا جائے۔





