لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ٹرمپ نےپیدائشی امریکی شہریت محدودکرنےکے نئےاحکامات جاری کردیے

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) نے ’برتھ رائٹ سٹیزن شپ‘ (حقِ پیدائش پر امریکی شہریت) اور ’برتھ ٹورازم‘ کو محدود کرنے کے لیے ایک بار پھر سخت قدم اٹھاتے ہوئے نئے صدارتی احکامات (Executive Orders) پر دستخط کر دیے ہیں۔

یہ اقدام سپریم کورٹ کے اس حالیہ فیصلے کے بعد سامنے آیا ہے جس میں عدالتِ عظمیٰ نے ان کی جانب سے شہریت ختم کرنے کی سابقہ کوشش کو منسوخ کر دیا تھا۔

اوول آفس میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے صدر ٹرمپ نے سپریم کورٹ کے فیصلے پر معذرت خواہانہ انداز میں کہا”حقِ پیدائش کے حوالے سے ہمارے پاس سپریم کورٹ کا ایک انتہائی بدقسمت فیصلہ آیا تھا۔”

وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی چیف آف اسٹاف اور امیگریشن پالیسیوں کے اہم معمار اسٹیفن ملر (Stephen Miller) کے مطابق، تازہ ترین احکامات قوانین کو مزید سخت بنانے اور قائم شدہ استثنیٰ کو محدود کرنے کے لیے ڈیزائن کیے گئے ہیں:

غیر ملکی دشمن اور دہشت گرد: پہلے صدارتی حکم کا نشانہ وہ افراد ہیں جو “غیر ملکی دشمن” (Alien Enemies)، غير ملکی دہشت گرد تنظیموں کے ارکان، یا غیر ملکی حکومتوں کے لیے لابنگ کرنے والے شعبوں سے تعلق رکھتے ہیں۔ ان گروپس کے ہاں امریکہ میں پیدا ہونے والے بچوں کو حقِ پیدائش کے تحت امریکی شہریت حاصل نہیں ہوگی۔

برتھ ٹورازم پر پابندی: دوسرے صدارتی حکم میں ’برتھ ٹورازم‘ (صرف بچے کو امریکی شہریت دلانے کی غرض سے امریکہ کا ویزہ لے کر سفر کرنا) پر قانونی گھیرا تنگ کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اگرچہ امریکی قانون پہلے ہی اس مقصد کے لیے ویزہ جاری کرنے پر پابندی عائد کرتا ہے، نئے حکم کا مقصد اس نفاذ کو مزید سخت بنانا ہے۔

یاد رہے کہ سپریم کورٹ نے 30 جون کے اپنے تاریخی فیصلے میں آئین کی 14ویں ترمیم کا حوالہ دیتے ہوئے امریکہ کی سر زمین پر پیدا ہونے والے تمام بچوں کی شہریت کے حق کا دفاع کیا تھا، چاہے ان کے والدین غیر قانونی یا عارضی طور پر ہی کیوں نہ مقیم ہوں۔

چیف جسٹس جان رابرٹس (John Roberts) نے اکثریتی فیصلے میں لکھا تھا کہ آئین کے مرتبین نے یہ وعدہ تمام آزاد پیدا ہونے والے افراد سے کیا ہے اور عدالت اس وعدے کو برقرار رکھتی ہے۔ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد ٹرمپ انتظامیہ نے اب محدود پیمانے پر استثنیٰ کو نشانہ بناتے ہوئے یہ احکامات جاری کیے ہیں۔