لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

(AI) کا پورٹابائل اورکم کنیکٹیویٹی والا’سمال اے آئی‘ (Small AI)ماڈل اپنانےکی تاکید

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

بینکاک، تھائی لینڈ (ویب ڈیسک): عالمی بینک (World Bank) اور بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (IMF) کے مشترکہ سالانہ اجلاسوں کے موقع پر عالمی ماہرینِ معیشت نے ترقی پذیر اور ابھرتی ہوئی معاشی طاقتوں کو مشورہ دیا ہے کہ وہ سیل فونز اور کم انٹرنیٹ پر چلنے والے ’سمال اے آئی‘ (Small AI) ماڈلز تیار کریں۔

عالمی بینک کے چیف نالج آفیسر پاسکل ڈونوہو (Paschal Donohoe) نے کہا ہے کہ اگر اس ٹیکنالوجی کو مقامی ضروریات کے مطابق ڈھالا جائے تو صدیوں کا معاشی سفر اب محض چند عشروں میں طے کیا جا سکتا ہے।

تھائی لینڈ کے دارالحکومت بینکاک میں منعقدہ ورلڈ بینک و آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے پینل ڈسکشن سے خطاب کرتے ہوئے ماہرین نے اس بات پر زور دیا کہ بڑی سلیکان ویلی کمپنیوں کے پیچیدہ ماڈلز کی بجائے، زراعت، صحت اور تعلیم کے لیے تیار کردہ مخصوص ‘سمال اے آئی’ ماڈلز دنیا بھر کے غریب اور درمیانی آمدنی والے ممالک کے لیے گیم چینجر ثابت ہو سکتے ہیں۔

پاسکل ڈونوہو نے بھارت میں ورلڈ بینک کے زرعی پروجیکٹ ‘ایگری کنیکٹ’ (AgriConnect) کی مثال دیتے ہوئے بتایا کہ مقامی کسانوں کو مٹی اور فصلوں کی تجزیاتی رپورٹ اپنی مقامی زبانوں میں درکار ہوتی ہے۔ اتنی بڑی تعداد کے لیے زرعی ماہرین کا ہونا ناممکن ہے، جہاں موبائل فون میں موجود ‘سمال اے آئی’ ایپ کسانوں کو تمام معلومات فراہم کر سکتی ہے۔

آئی ایم ایف کی مینیجنگ ڈائریکٹر کرسٹالینا جارجیوا (Kristalina Georgieva) نے کہا کہ اے آئی کا کامیاب نفاذ یقینی بنانے کے لیے بجلی اور ڈیجیٹل انفراسٹرکچر کی فراہمی لازمی ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ وقت کے ساتھ ساتھ عالمی سطح پر 40 فیصد ملازمتیں یا تو ختم ہو جائیں گی یا ان میں اے آئی کی وجہ سے تبدیلی آئے گی۔ اس کا سب سے بڑا نقصان جاب مارکیٹ میں قدم رکھنے والے نوجوانوں کو ہو گا۔

ورلڈ بینک کی رپورٹ کے مطابق، افریقہ کے ذیلی صحرائی علاقوں (Sub-Saharan Africa) میں اب بھی ایک تہائی سے زائد دیہی اسکولوں میں بجلی نہیں ہے اور دو تہائی اسکول مسلسل انٹرنیٹ کی سہولت سے محروم ہیں، جن کے لیے ‘سمال اے آئی’ ہی سب سے کارآمد حل بن سکتا ہے۔