اقوام متحدہ (ویب ڈیسک): پاکستان نے آبنائے ہرمز اور باب المندب میں بحری آمدورفت میں رکاوٹوں اور تجارتی جہازوں پر حملوں پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ ایسے واقعات توانائی، خوراک اور معاشی تحفظ کو شدید خطرات سے دوچار کر سکتے ہیں۔
اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں ’ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجیز اور بحری سلامتی: امن و سلامتی پر اثرات‘ کے موضوع پر اعلیٰ سطحی کھلے مباحثے سے خطاب کرتے ہوئے پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب، سفیر عثمان جدون نے کہا کہ ان اہم سمندری گزرگاہوں میں عدم استحکام کے اثرات صرف بحری تجارت تک محدود نہیں رہتے بلکہ خطے اور عالمی معیشت کے لیے بھی سنگین نتائج کا باعث بن سکتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان خطے کے برادر ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بھرپور حمایت کرتا ہے، جو ان اہم آبی گزرگاہوں اور بحری تجارتی راستوں میں پیدا ہونے والی غیر یقینی صورت حال سے متاثر ہو رہے ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے حوثی ملیشیا کی جانب سے باب المندب کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوششوں، تجارتی جہازوں اور آبنائے سے گزرنے والے بحری عملے پر حملوں کی سخت مذمت کی۔ انہوں نے کہا کہ ایسے حملے بحری سلامتی کو نقصان پہنچاتے اور خطے کے ممالک کے امن اور ترقی کے لیے خطرہ بنتے ہیں۔
پاکستانی مندوب نے بالخصوص سعودی عرب کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ مملکت کو حوثیوں کی جانب سے کھلی جارحیت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ پاکستان نے سعودی عرب کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے اپنی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا اور سعودی قیادت اور عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا۔
پاکستان نے اپنے مؤقف میں واضح کیا کہ آبنائے ہرمز اور باب المندب جیسی اہم سمندری گزرگاہوں کا تحفظ عالمی توانائی، خوراک اور معاشی سلامتی کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے، لہٰذا ان راستوں پر محفوظ اور بلا رکاوٹ بحری آمدورفت یقینی بنانا ضروری ہے۔





