ویٹیکن سٹی / شیکاگو (ویب ڈیسک):عیسائیت کے کیتھولک مکتبہ فکر کے روحانی پیشوا اور شیکاگو میں پیدا ہونے والے پوپ لیو چہاردہم (Pope Leo XIV) نے نومبر 2026 کے امریکی مڈٹرم انتخابات میں ووٹ ڈال کر ایک نئی تاریخ رقم کر دی ہے۔
وہ کیتھولک چرچ کی 2000 سالہ تاریخ میں کسی بھی امریکی جنرل الیکشن میں اپنا حقِ رائے دہی استعمال کرنے والے پہلے پاپائے روم بن گئے ہیں۔
ویٹیکن پریس آفس کی جانب سے جاری کردہ باضابطہ بیان میں تصدیق کی گئی ہے کہ پوپ لیو (سابقہ روبرٹ پریووسٹ / Robert Prevost) نے امریکی شہری ہونے کے ناتے شیکاگو، الینوائے سے اپنا میل ان (Mail-in) بیلٹ پیپر بھیج کر اپنا ووٹ کاسٹ کیا ہے۔
ویٹیکن پریس آفس کے مطابق: “مقدس باپ (Holy Father) نے ہمیشہ امریکی شہری کے طور پر اپنی اہلیت کے مطابق اپنا حقِ رائے دہی استعمال کیا ہے، اور اس سے قبل وہ پیرو میں قیام کے دوران بھی ووٹ ڈالتے رہے ہیں۔ پوپ جمہوری عمل میں شہریوں کی شمولیت کو ایک بنیادی حق اور مدنی فرض سمجھتے ہیں”۔
‘شیکاگو سن ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق، ول کاؤنٹی (Will County) کے کلرک آفس نے تصدیق کی ہے کہ نیو لینکس (New Lenox) میں رجسٹرڈ پوپ نے 3 اکتوبر کو میل ان بیلٹ کے لیے درخواست دی تھی۔ اگرچہ یہ واضح نہیں ہو سکا کہ بیلٹ کس طرح واپس بھیجا گیا، تاہم ان کے بھائی جان پریووسٹ رواں ہفتے نیو لینکس کی مقامی چرچ کی برادری کے ساتھ روم کے دورے پر موجود تھے۔
الینوائے اسٹیٹ بورڈ آف الیکشنز کے ریکارڈ کے مطابق، سن 2000 سے اب تک انہوں نے 5 پرائمری انتخابات میں حصہ لیا، جن میں 2 بار ڈیموکریٹک اور 3 بار ریپبلکن بیلٹس کی درخواست کی گئی۔ وہ 2008 اور 2010 میں ڈیموکریٹک پرائمری جبکہ 2012، 2014 اور 2016 میں ول کاؤنٹی منتقل ہونے کے بعد ریپبلکن پرائمری کا حصہ رہے۔ تاہم، عام انتخابات میں انہوں نے کس امیدوار کو ووٹ دیا، یہ ریکارڈ کا حصہ نہیں ہے۔





