لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

عالمی تنازعات کےحل کےلیےسفارتکاری اوربین الاقوامی قوانین پرعملدرآمدناگزیرہے،پاکستان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

تاریخ: 29اکتوبر

اقوام متحدہ (ویب ڈیسک): اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں ایجنڈا آئٹم 72 کے تحت عمومی مباحثے کے دوران پاکستان نے عالمی تنازعات کے پرامن حل، بین الاقوامی قوانین کی پاسداری اور بین الاقوامی عدالتِ انصاف (آئی سی جے) کے مؤثر کردار پر اپنا مؤقف پیش کیا ہے۔

پاکستان کے فرسٹ سیکرٹری ذوالفقار علی نے اپنے خطاب میں کہا کہ دنیا اس وقت بیک وقت متعدد سنگین بحرانوں سے دوچار ہے، جن کے اثرات اقوام متحدہ کے رکن ممالک کے ساتھ ساتھ عام شہریوں پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔

انہوں نے بین الاقوامی قوانین کی مسلسل خلاف ورزیوں، اہم عالمی معاہدوں کی بے حرمتی اور انسانی حقوق کی سنگین و منظم پامالیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ عالمی سطح پر قانون کی حکمرانی اور بین الاقوامی ذمہ داریوں کا احترام یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔

پاکستانی مندوب نے تنازعات کے پرامن حل میں بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے کلیدی کردار کو تسلیم کرتے ہوئے واضح کیا کہ عدالت کا قانونی کردار سفارت کاری اور بامعنی مذاکرات کا متبادل نہیں ہو سکتا۔

ذوالفقار علی کے مطابق تنازعات کا دیرپا حل اور مستقبل میں ان کی روک تھام محض عدالتی فیصلوں سے ممکن نہیں، بلکہ اس کے لیے ضروری ہے کہ اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک عالمی عدالت کے فیصلوں کا احترام کریں اور ان پر خلوصِ نیت، سیاسی عزم اور مکمل ذمہ داری کے ساتھ عملدرآمد یقینی بنائیں۔

پاکستان نے اپنے مؤقف میں اس امر پر زور دیا کہ عالمی امن و استحکام کے لیے بین الاقوامی قوانین کی پاسداری، مؤثر سفارت کاری اور تنازعات کے حل کے لیے مکالمے کا راستہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔