تاریخ: 9 اکتوبر2026
نیویارک / اسلام آباد : اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 81 ویں اجلاس کی چوتھی کمیٹی میں “استعمار زدائی کے اعلامیے پر عملدرآمد” (Implementation of the Declaration on Decolonization) کے حوالے سے ہونے والے اہم اجلاس میں پاکستان نے دوٹوک اور بلاشبہ موقف پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا کے بعض مقبوضہ علاقوں میں ‘سیٹلر کالونیلزم’ (Settler Colonialism) اور غیر ملکی تسلط بدستور ایک تلخ حقیقت ہے۔
اقوام متحدہ میں پاکستان کے قائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون (Ambassador Usman Jadoon) نے اپنے خطاب میں واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے تحت حقِ خودارادیت کا وعدہ مقبوضہ فلسطین اور بھارت کے غیر قانونی طور پر مقبوضہ جموں و کشمیر (IIOJK) کے عوام کے لیے تاحال شرمندہ تعبیر نہیں ہو سکا۔ انہوں نے کہا کہ غاصبانہ قبضہ اور کچلنے کی پالیسیوں کا وقت گزرنے سے کوئی قانونی جواز پیدا نہیں ہوتا اور نہ ہی اقوام متحدہ کے عالمی وعدے ختم ہوتے ہیں۔
سفیر عثمان جدون نے غزہ کی بدترین تباہی، دہائیوں سے جاری غیر قانونی قبضے اور بے دخلی کو بین الاقوامی برادری اور اقوام متحدہ کے چارٹر کے لیے ایک بڑا امتحان قرار دیا۔
انہوں نے یاد دلایا کہ مقبوضہ جموں و کشمیر کے عوام اس حقِ خودارادیت کے منتظر ہیں جس کا وعدہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل نے کیا تھا۔ سلامتی کونسل کی قراردادیں اقوام متحدہ کی زیرِ نگرانی آزادانہ اور منصفانہ رائے شماری کا واضح فریم ورک فراہم کرتی ہیں جسے بھارت اور پاکستان دونوں نے تسلیم کیا تھا، اور وقت گزرنے کے ساتھ یہ عزم ختم نہیں ہو سکتا۔
پاکستان نے اقوام متحدہ پر زور دیا کہ وہ دنیا بھر سے استعمار اور غیر ملکی تسلط کے آخری اثرات کا خاتمہ یقینی بنائے تاکہ خطے اور دنیا میں پائیدار امن قائم ہو سکے۔





