لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی مڈٹرم الیکشن2026سےقبل بڑاسروے: ‘گورنمنٹ کرپشن’مہنگائی کےبعدسب سےاہم انتخابی مسئلہ بن گئی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / نیویارک (ویب ڈیسک): امریکی کانگریس کے وسط مدتی انتخابات (Midterms 2026) میں چند روز باقی رہ گئے ہیں، جہاں مہنگائی اور زندگی کے بڑھتے ہوئے اخراجات کے بعد ‘سرکاری کرپشن’ (Government Corruption) امریکی ووٹرز کا دوسرا بڑا انتخابی مسئلہ بن کر ابھری ہے۔

دی گارڈین کے لیے ‘دی ہیرس پول’ (The Harris Poll) کے خصوصی آن لائن سروے کے مطابق، امریکہ کے 10 میں سے 9 ووٹرز (تقریباً 90 فیصد) کا ماننا ہے کہ منتخب نمائندے عوامی مفاد کے بجائے اپنے اور اپنے مالی معاونین (Donors) کے ذاتی مفادات کو ترجیح دے رہے ہیں۔

سروے میں شامل 76 فیصد ووٹرز نے کہا کہ منتخب حکام عام شہریوں کے لیے معیشت کو بہتر بنانے کے بجائے اپنی جیبیں بھرنے میں زیادہ دلچسپی رکھتے ہیں۔

سروے کے نتائج ایسے وقت میں سامنے آئے ہیں جب ڈونلڈ ٹرمپ کی دوسری مدت صدارت کے دو سال مکمل ہو رہے ہیں۔ ووٹرز نے وائٹ ہاؤس کے تاریخی ایسٹ ونگ کو مسمار کر کے 400 ملین ڈالر کا بال روم بنانے (جس میں سے 335 ملین ڈالر پرائیویٹ ڈونرز سے آئے)، ایلن مسک کی تجویز پر 4 لاکھ 20 ہزار سے زائد وفاقی ملازمین کی برطرفی، قطر کے شاہی خاندان سے 400 ملین ڈالر کے جیٹ طیارے کے تحفے، اور ٹرمپ فیملی کے 1 ارب ڈالر کے کرپٹو بزنس پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔

پارٹی وائز اور انڈیپنڈنٹ ووٹرز کی رائے:

40 فیصد ووٹرز (جن میں 29 فیصد ریپبلکنز شامل ہیں) کا ماننا ہے کہ ریپبلکن پارٹی میں کرپشن کا مسئلہ زیادہ سنگین ہے۔

21 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو زیادہ کرپٹ قرار دیا، جبکہ 32 فیصد کا خیال ہے کہ دونوں جماعتیں برابر کی ذمہ دار ہیں۔

انتخابات میں کلیدی کردار ادا کرنے والے ‘انڈیپنڈنٹ ووٹرز’ (Independents) میں سے 34 فیصد نے ریپبلکنز اور 13 فیصد نے ڈیموکریٹس پر کرپشن کے زیادہ سنگین ہونے کا الزام لگایا۔

این بی سی نیوز کے مطابق، ان مڈٹرم انتخابات پر اشتہارات کی مد میں 11.2 ارب ڈالر خرچ ہو چکے ہیں جو ایک نیا ریکارڈ ہے۔ برینن سینٹر کے مطابق صرف 40 ارب پتیوں نے 2.5 ارب ڈالر فنڈز فراہم کیے ہیں۔ ووٹرز کی اکثریت (78%) کا کہنا ہے کہ یہ بے تحاشا سرمایہ سیاست دانوں کو عوام سے دور اور ڈونرز کے قریب کر رہا ہے۔

اسی منگل کو کیلیفورنیا کے ووٹرز ریاست کے ارب پتیوں پر 5% یکمشت ‘ویلتھ ٹیکس’ (Wealth Tax) لگانے کے بل پر فیصلہ دیں گے، جس کی مخالفانہ مہم پر ٹیک ارب پتی روزانہ 10 لاکھ ڈالر خرچ کر رہے ہیں۔ یونائیٹڈ ایئرلائنز کے سی ای او سکاٹ کربی (Scott Kirby) نے بھی اس معاشی عدم مساوات کو ختم کرنے کے لیے ملکی سطح پر ‘نیشنل ویلتھ ٹیکس’ کی حمایت کی ہے۔