لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

روسی ڈیزل کی عالمی مارکیٹ میں واپسی:صدر ٹرمپ اورپوتن کےمعاہدےنےیوکرین اورمغربی اتحادمیں دراڑڈال دی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / ماسکو: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی ڈیزل کی برآمدات پر سے چھ ماہ کے لیے پابندیاں اٹھانے کے اعلان نے عالمی سیاست اور بین الاقوامی اتحاد میں ایک نیا زلزلہ برپا کر دیا ہے۔

کرملین نے روس پر سے ایندھن کی عالمی پابندیاں نرم کروا کر اور لاکھوں ٹن ڈیزل عالمی مارکیٹ میں لانے کی اجازت حاصل کر کے وہ کامیابی حاصل کر لی ہے جو وہ مشرقی یوکرین کے میدانِ جنگ میں عسکری طاقت کے ذریعے بھی حاصل نہیں کر سکا تھا۔

اگرچہ اس معاہدے سے جنگ سے متاثرہ روسی معیشت کو اربوں ڈالر کا فائدہ پہنچے گا، تاہم روسی صدر ولادیمیر پوتن کے لیے اصل فتح وہ خلیج اور اختلافات ہیں جو اس فیصلے کے بعد امریکہ، یوکرین اور دیگر مغربی اتحادیوں کے درمیان پیدا ہو گئے ہیں۔

امریکی صدر ٹرمپ نے یوکرینی صدر وولودیمل زیلنسکی کی شدید تنقید پر برہمی کا اظہار کرتے ہوئے عالمی سطح پر ایندھن کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کا ذمہ دار یوکرینی ڈرون حملوں کو ٹھہرایا اور یوکرین میں ‘نئی قیادت’ کا مطالبہ کر دیا ہے۔

امریکہ کی جانب سے یوکرین کو یہ واضح پیغام دیا گیا ہے کہ اگر اس نے روسی آئل ریفائنریوں پر ڈرون حملے جاری رکھے تو امریکہ یوکرین کے ساتھ دفاعی انٹیلی جنس شیئرنگ (Intelligence Sharing) مکمل طور پر بند کر دے گا۔

یوکرینی صدر زیلنسکی نے واضح کیا کہ یوکرین صرف اس صورت میں روسی ریفائنریوں پر حملے روکے گا اگر روس یوکرین کی انرجی تنصیبات پر حملے بند کرے۔

انہوں نے ٹرمپ کے فیصلے کو “ایک مضبوط شراکت دار کا کمزور فیصلہ” قرار دیا جس سے روس کی جنگی مشینری کو مزید اربوں ڈالر ملیں گے۔

کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی (Mark Carney) نے زیلنسکی سے رابطہ کر کے حمایت کا اعادہ کیا اور کہا کہ “یہ معاہدہ یورپ میں امن اور استحکام کی ہماری کوششوں کے برعکس ہے”۔

صدر پوتن نے ٹرمپ کے ساتھ ٹیلی فون کال کے بعد باضابطہ بیان میں کہا کہ “روس عالمی مارکیٹ کو تیل اور پٹرولیم مصنوعات فراہم کرنے کے لیے تیار ہے جس سے عالمی معیشت پر مثبت اثر پڑے گا”۔