لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

جنگلات کی کٹائی اورموسمیاتی ناہمواریاں: اقوامِ متحدہ نےدنیاکو’آخری موقع’کاانتباہ جاری کر دیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک/روم:اقوامِ متحدہ کے ادارے ‘فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن’ (FAO) نے اپنی اہم رپورٹ ‘دی اسٹیٹ آف دی ورلڈز فارسٹس’ (The State of the World’s Forests) میں عالمی سطح پر خبردار کیا ہے کہ دنیا کے پاس خوراک کے تحفظ (Food Security) کو یقینی بنانے اور موسمیاتی ایمرجنسی سے نمٹنے کے لیے جنگلات کی بحالی کا وقت تیزی سے ختم ہو رہا ہے۔

اقوامِ متحدہ کی رپورٹ کے مطابق 1990ء سے اب تک دنیا بھر میں 48 کروڑ 90 لاکھ ہیکٹرز (تقریباً 1 ارب 20 کروڑ ایکڑ) جنگلات کاٹ دیے گئے ہیں، جبکہ اس سے بھی بڑا رقبہ شدید تنزلی اور نقصان کا شکار ہے۔

جنگلات زمین کے 4.14 ارب ہیکٹرز (خشکی کے ایک تہائی حصے) پر محیط ہیں، جو 714 گیگا ٹن کاربن ذخیرہ کرتے ہیں اور دنیا کی 80 فیصد برّی حیات (Biodiversity) کا مسکن ہیں۔ دنیا کی تقریباً ایک تہائی آبادی کے روزگار کا انحصار جنگلات پر ہے۔

عالمی سطح پر ہر سال 12 کروڑ 70 لاکھ ہیکٹر جنگلات آگ کی لپیٹ میں آتے ہیں، جبکہ حشرات، بیماریوں، زرعی توسیع اور آلودگی کے باعث نقصان الگ ہے۔

گزشتہ دو دہائیوں میں 1 ارب ہیکٹر زمین کی بحالی کے عالمی وعدے کیے گئے، لیکن حقیقت میں صرف 20 فیصد حصہ ہی بحال ہو سکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق جنگلات کی 1 ارب ہیکٹرز کی بحالی پر سرمایہ کاری کرنے سے دنیا کو سالانہ 1.8 ٹریلین ($1.8tn) ڈالر کا معاشی فائدہ پہنچے گا۔

ایف اے او (FAO) کے ڈائریکٹر جنرل کیو ڈونگیو (Qu Dongyu) نے واضح کیا ہے کہ “جنگلات کی بحالی صرف ماحولیاتی ترجیح نہیں بلکہ پائیدار زرعی سسٹمز اور دیہی ترقی کا اسٹریٹجک منصوبہ ہے، تاخیر کی صورت میں طویل مدتی اخراجات اور ناہمواریوں میں اضافہ ہوگا”۔