واشنگٹن / کیف : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے روسی صدر ولادی میر پوتن کے ساتھ کروڑوں ٹن روسی ڈیزل خریدنے کے چونکا دینے والے معاہدے کے بعد امریکی انتظامیہ، یوکرین اور یورپی اتحادیوں کے درمیان شدید بحران پیدا ہو گیا ہے۔
ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ‘ٹروتھ سوشل’ پر اس معاہدے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ “ایران کے ساتھ جنگ کے باعث امریکہ میں ایندھن بالخصوص ڈیزل کی ریکارڈ قیمتوں ($6.52 فی گیلن) کو کم کرنے کے لیے پوتن کے ساتھ یہ معاہدہ انتہائی ضروری تھا”۔ دوسری جانب، یوکرینی صدر ولودی میر زلینسکی (Volodymyr Zelenskyy) نے اس معاہدے پر شدید غصے کا اظہار کرتے ہوئے اسے “انتہائی خوفناک، ناانصافی پر مبنی اور پوتن کے لیے سالگرہ کا تحفہ” قرار دیا ہے۔
معاہدے اور پابندیوں میں نرمی کے فوراً بعد روسی فوج نے یوکرین کے جنوبی مشرقی شہر زاپوریژیا (Zaporizhzhia) میں رہائشی عمارتوں پر 5 گائیڈڈ بم گرائے، جس کے نتیجے میں 3 بچوں سمیت 12 افراد ہلاک ہو گئے۔ زلینسکی نے تنقید کرتے ہوئے کہا کہ “روس نے ڈیزل معاہدے اور پابندیوں میں نرمی کا شکریہ 12 شہریوں کے قتل عام سے ادا کیا ہے”۔
سینٹ میں ڈیموکریٹک لیڈر چَک شومر (Chuck Schumer) اور سینئرز سینیٹرز نے الگ بیان میں اس معاہدے کو ٹرمپ کی ناکام پالیسی قرار دیتے ہوئے کہا کہ “یہ معاہدہ امریکی سیکیورٹی کو خطرے میں ڈالنے اور روسی بینکوں پر عائد پابندیوں کے قانون کو منسوخ کرنے کے مترادف ہے”۔
ریپبلکن کانگریس مین ڈان بیکن نے بھی فیصلے کو اخلاقی طور پر غلط قرار دیتے ہوئے کہا کہ “پوتن کی جنگی معیشت کی مالی معاونت کر کے یوکرینی شہروں پر بمباری کا راستہ ہموار کیا جا رہا ہے”۔
ایران کی جانب سے آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) کی بندش کے بعد عالمی مارکیٹ میں خام تیل اور ڈیزل کی سپلائی بری طرح متاثر ہوئی ہے، جس کے بعد نومبر کے وسط مدتی (Midterm) انتخابات سے قبل ٹرمپ انتظامیہ پر ایندھن کی قیمتیں کم کرنے کا شدید دباؤ ہے۔





