لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

امریکی انتخابات قریب،اوبامااورٹرمپ کےدرمیان سیاسی محاذآرائی شدت اختیارکرگئی

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / ایٹلانٹا (ویب ڈیسک): امریکی کانگریس اور سینیٹ کے وسط مدتی انتخابات (Midterm Elections) میں ایک ہفتے سے بھی کم وقت باقی رہ گیا ہے، جس کے دوران واشنگٹن میں اقتدار کا توازن بدلنے کا قوی امکان ہے۔

اس موقع پر سابق صدر باراک اوباما (Barack Obama) اور سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ (Donald Trump) کے درمیان انتخابی مہم کے دوران جملے بازی اور لفظی جنگ میں شدید تلخی آ گئی ہے۔

ڈونلڈ ٹرمپ جہاں کئی ہفتوں سے اپنی پارٹی کا اقتدار بچانے کے لیے طوفانی دورے کر رہے ہیں، وہیں باراک اوباما نے بھی انتخابی مہم میں باضابطہ انٹری دیتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ اور ریپبلکن پارٹی پر براہِ راست حملے شروع کر دیے ہیں۔

ایٹلانٹا کے مضافات میں ڈیموکریٹک جلسے سے خطاب کرتے ہوئے سابق صدر باراک اوباما نے ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے وائٹ ہاؤس کی تزئین و آرائش پر شدید تنقید کی۔ انہوں نے ٹرمپ کی سونے کی سجاوٹ کا موازنہ ‘صدام حسین کی جانب سے چیز کیک فیکٹری (Cheesecake Factory) کو سجانے’ سے کیا۔

اوباما نے کہا:”یہ سنجیدہ لوگ نہیں ہیں اور ان کی عدم سنجیدگی کا خمیازہ ہم سب بھگت رہے ہیں۔ ٹرمپ انتظامیہ نے اس معمولی مذاق کا جواب دینے کے لیے سیکریٹری خزانہ کو ‘چیز کیک فیکٹری’ کے سامنے پریس کانفرنس کرنے کی ہدایت کر دی، حالانکہ ان کا کام افراطِ زر (Inflation) کو کم کرنا تھا”۔

اوہائیو میں ایک بڑے انتخابی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے ڈونلڈ ٹرمپ نے وائٹ ہاؤس کی ڈیکوریشن کا دفاع کرتے ہوئے کہا: “وائٹ ہاؤس ہمارے ملک کی سب سے بڑی علامت ہے۔ ہم ایسا وائٹ ہاؤس نہیں دیکھ سکتے جس کی کھڑکیاں ٹوٹی ہوں اور جس کے پتھروں پر 30 سال سے پینٹ نہ ہوا ہو۔ اوباما نے وائٹ ہاؤس کو ابتر حالت میں چھوڑا تھا”۔