واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی مڈٹرم کانگریسی انتخابات سے قبل کروائے گئے رویٹرز/اہپسوس (Reuters/Ipsos) کے تازہ ترین سروے نے ریپبلکن پارٹی اور وائٹ ہاؤس کے لیے خطرے کی گھنٹیاں بجا دی ہیں۔ سروے نتائج کے مطابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت کی شرح گر کر ان کے دونوں ادوارِ صدارت کی ریکارڈ نچلی ترین سطح 31 فیصد پر آگئی ہے۔
3 نومبر کو ہونے والے کانگریسی انتخابات سے متعلق ‘جنرک بیلٹ’ (Generic Ballot) کے سوال پر 47 فیصد رجسٹرڈ ووٹرز نے ڈیموکریٹک پارٹی کی حمایت کی جبکہ صرف 35 فیصد ووٹرز نے ریپبلکنز کے حق میں رائے دی۔ ڈیموکریٹس کو حاصل 12 پوائنٹس کی یہ برتری جاری انتخاباتی سائیکل میں سب سے بڑی ہے، جس کے بعد ایوانِ نمائندگان (House of Representatives) اور سینیٹ (Senate) کا کنٹرول ڈیموکریٹس کے ہاتھ میں جانے کے قوی امکانات پیدا ہو گئے ہیں۔
رپورٹ کے مطابق فروری میں اسرائیل کے ساتھ مل کر ایران پر کیے گئے ملٹری اسٹرائیکس اور اس کے نتیجے میں پیٹرول (Gasoline) کی قیمتوں میں ہونے والے ہوشربا اضافے نے عام امریکیوں کی جیبوں پر بھاری بوجھ ڈالا ہے۔ 68 فیصد امریکیوں نے ٹرمپ کی معاشی پالیسیوں کی مذمت کی ہے، جن میں 37 فیصد خود ریپبلکن ووٹرز بھی شامل ہیں۔
ریپبلکنز کی مقبولیت میں اس بڑی گراوٹ کی بنیادی وجہ خواتین ووٹرز کا ڈیموکریٹس کی طرف جھکاؤ ہے۔ سروے میں 50 فیصد خواتین ووٹرز نے ڈیموکریٹس جبکہ صرف 32 فیصد نے ریپبلکنز کی حمایت کی۔
معیشت کو بہتر طریقے سے چلانے کے معاملے پر بھی 40 فیصد ووٹرز نے ڈیموکریٹس کو جبکہ 33 فیصد نے ریپبلکنز کو بہتر ناظم قرار دیا۔
یہ سروے 1,679 امریکی بالغوں اور 1,279 رجسٹرڈ ووٹرز پر آن لائن انداز میں کیا گیا جس میں غلطی کا امکان (Margin of Error) 2 سے 3 فیصد ہے۔





