لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ٹرمپ کایوکرین اورروس کےدرمیان’انرجی سیز فائر’کایکطرفہ اعلان

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ٹروتھ سوشل (Truth Social) پر ایک پُرسنسنی خیز پوسٹ میں دعویٰ کیا ہے کہ روس اور یوکرین کے درمیان توانائی کی تنصیبات پر حملے روکنے کے لیے ‘انرجی سیز فائر’ (Energy Ceasefire) طے پا گیا ہے۔ تاہم، یوکرینی صدر وولودیمل زیلنسکی نے واضح کیا ہے کہ امریکہ اور روس کے درمیان ہونے والے اس سمجھوتے کی انہیں پیشگی کوئی اطلاع نہیں تھی اور یہ ان کے لیے “ایک نئی خبر” ہے۔

ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “فوری طور پر نافذ العمل! روس اور یوکرین کی جنگ میں انرجی سیز فائر ہو گیا ہے، دونوں فریق متفق ہیں، اب اسے نہ توڑا جائے”۔ خبر رساں ویب سائٹ ‘ایکسیوس’ (Axios) کو دیے گئے انٹرویو میں صدر زیلنسکی نے کہا کہ اگر صدر ٹرمپ نے پوتن سے یہ معاہدہ طے کرایا ہے تو ہمیں بتایا جائے کہ یہ سیز فائر کب سے شروع ہو رہا ہے، کیونکہ روس کی جانب سے خارکیو کے پاور اسٹیشن اور 17 دیگر گیس و تیل کی تنصیبات پر ڈرون اور ہوائی حملے بدستور جاری ہیں۔

تنازع کا آغاز اس وقت ہوا جب ٹرمپ نے امریکی مڈ ٹرم انتخابات سے قبل تیل کی قیمتیں کم کرنے کے لیے روسی ڈیزل کی برآمدات پر سے امریکی پابندیاں ہٹانے کا اعلان کیا۔ زیلنسکی نے اس فیصلے کو “کمزور” قرار دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پوتن کو اربوں ڈالر اضافی ملیں گے۔

زیلنسکی کی سخت تنقید پر شدید برہم ہو کر ٹرمپ نے کہا کہ “زیلنسکی کو روسی آئل ریفائنریوں پر حملے فوراً بند کرنے چاہئیں” اور دعویٰ کیا کہ یوکرین کو “نئی قیادت” کی ضرورت ہے۔

ہتھیاروں اور انٹیلی جنس کی فراہمی روکنے کی دھمکی: ‘فائنینشل ٹائمز’ کی رپورٹ کے مطابق، ٹرمپ انتظامیہ نے کیو پر دباؤ ڈالنے کے لیے یوکرین کو ملنے والی امریکی ہتھیاروں کی سپلائی اور انٹیلی جنس شیئرنگ روکنے کی دھمکی دی ہے۔

برطانیہ کے وزیراعظم اینڈریو برنہم (Andy Burnham)، فرانسیسی صدر ایمینوئل میکرون اور یورپی کمیشن کی صدر ارسلا وان ڈیر لین نے زیلنسکی سے رابطہ کر کے ان کے ساتھ کامل یکجہتی کا اظہار کیا اور روس پر پابندیاں برقرار رکھنے کا اعادہ کیا۔