روم: اقوام متحدہ کے فوڈ اینڈ ایگریکلچر آرگنائزیشن (FAO) کے ایک سابق سینئر عہدیدار بنجمن ڈیوس (Benjamin Davis) نے انکشاف کیا ہے کہ انہیں غازہ میں درپیش بھوک اور انسانی بحران پر بات کرنے کی وجہ سے عہدے سے برطرف کر دیا گیا ہے۔ 26 سالہ طویل سروس کے بعد برطرف کیے جانے والے 62 سالہ ہسپانوی امریکی شہری ڈیوس نے اس فیصلے کے خلاف باقاعدہ اپیل دائر کر دی ہے۔
بنجمن ڈیوس ایف اے او (FAO) کے رورل ٹرانسفارمیشن اینڈ جینڈر ایکویلٹی ڈویژن کے ڈائریکٹر کے طور پر خدمات انجام دے رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ ایجنسی کی قیادت نے ان کے کنٹریکٹ کی تجدید سے اس لیے انکار کیا کیونکہ ان کی ٹیم نے غازہ میں بھوک سے متعلق ایک تحریری بریفنگ جاری کی تھی، اس موضوع پر سیمینار کا انعقاد کیا تھا، اور وہ روم میں ادارتی احاطے میں غازہ میں ہلاک ہونے والوں کی یاد میں منعقدہ ہفتہ وار خاموشی کی تقریب میں شرکت کرتے تھے۔
ڈیوس کے مطابق، ستمبر 2025 میں غازہ میں بھوک سے متعلق منعقدہ سیمینار کے بعد ایف اے او کے لیے اسرائیلی مشن نے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے شکایت درج کرائی تھی۔ بعد ازاں اکتوبر میں ایک اسرائیلی سفارت کار نے تقریب میں شرکت کرنے والے عملے کی تصاویر بھی بنائیں۔
دوسری جانب، ایف اے او کے ڈائریکٹر جنرل کو ڈونگیو (Qu Dongyu) نے عوامی سطح پر اپنے بیانات میں ڈیوس کی برطرفی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ ادارہ کسی کو ‘سیاسی کھیل’ کھیلنے کی اجازت نہیں دے گا۔ ڈونگیو کا کہنا تھا کہ “اگر آپ کو انسانی حقوق کی فکر ہے تو جنیوا میں انسانی حقوق کی ایجنسی موجود ہے، وہاں جائیں۔ یہاں اصولوں کی خلاف ورزی کرنے والوں کے خلاف مزید اقدامات کیے جائیں گے۔”
ڈیوس نے ڈائریکٹر جنرل کے بیان پر حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “مصائب اور ناانصافی پر خاموش رہنا غیر جانبداری نہیں بلکہ مجرمانہ خاموشی ہے۔ فلسطین میں بھوک اور قحط کے خلاف آواز اٹھانا ہماری بنیادی ذمہ داریوں کا حصہ ہے۔” انہوں نے واضح کیا کہ انہوں نے اپنے اصولوں کی خاطر اور الزام تراشی واپس لینے کے لیے دوبارہ بحالی کی اپیل دائر کی ہے۔





