لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

قطر کااسرائیل پر شدیدردِعمل:انتخابات میں مداخلت اورفنڈنگ کےالائامات کو’مضحکہ خیزاور خطرناک’قراردےکرمستردکردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

دوحہ (ویب ڈیسک): قطری وزارتِ خارجہ نے اسرائیلی سیاست دانوں اور میڈیا کی جانب سے قطر پر اسرائیلی مڈٹرم پارلیمانی انتخابات میں مداخلت کرنے کے تمام الزامات کی سخت الفاظ میں تردید کی ہے۔

قطری ترجمان نے ان دعٰؤں کو “مضحکہ خیز اور خطرناک” قرار دیتے ہوئے واضح کیا ہے کہ قطر کو اسرائیلی رہنماؤں کی سیاسی ناکامیوں کا قربانی کا بکرا (Scapegoat) نہیں بنایا جانا چاہیے۔

قطر کی وزارتِ خارجہ کے ترجمان ماجد الانصاری (Majed al-Ansari) نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس (X) پر جاری اپنے اہم بیان میں کہا کہ قطر نے اسرائیلی انتخابات میں نہ تو کوئی مداخلت کی ہے اور نہ ہی انتخابی نتائج پر اثر انداز ہونے کے لیے کسی قسم کی مالی معاونت فراہم کی ہے۔

ماجد الانصاری نے اسرائیلی میڈیا اور بعض سیاست دانوں پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ وہ متضاد الائامات عائد کرتے رہتے ہیں: “کبھی دعویٰ کیا جاتا ہے کہ قطر نے بنیامین نتن یاہو کو خرید لیا، کبھی دائیں یا بائیں بازو کی جماعتوں کو فنڈنگ دینے کا الزام لگتا ہے، اور اب اس تازہ مہم میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ہم نے عرب ووٹرز کو فنڈز دیے ہیں”۔

اسرائیلی الیکشن میں عرب جماعتوں کی شاندار کامیابی اور تاریخی ٹرن آؤٹ کے بعد، نتن یاہو کے کیمپ نے بغیر کسی ثبوت کے عرب پارٹیوں پر قطری رقم حاصل کرنے کا الزام لگایا تھا۔ عرب-اسرائیلی جماعت ‘رام’ (Ra’am) کے سربراہ منصور عباس نے ان تمام الزامات کو بے بنیاد قرار دے کر مسترد کر دیا ہے۔

قطری ترجمان نے کہا کہ اس قسم کے الزامات قطر کو مشرقِ وسطیٰ اور غزہ میں جاری سفارتی ثالثی اور امن کی کاوشوں سے دور نہیں کر سکتے۔ انہوں نے زور دیا کہ آنے والی کسی بھی اسرائیلی حکومت کو بین الاقوامی قوانین اور یو این قراردادوں کا احترام کرتے ہوئے 1967 کی حدود کے مطابق آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کو تسلیم کرنا ہوگا۔