لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوامِ متحدہ میں پاکستان کی دہائی:ملٹری AI ٹیکنالوجی کےشکارمعصوم بچے،مقبوضہ فلسطین اورجنگی علاقوں میں مظالم پر سیکیورٹی کونسل کوجنجھوڑدیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک):اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل (UNSC) میں ‘بچے اور مسلح تنازعات’ (Children and Armed Conflict) کے موضوع پر منعقدہ بریفنگ سے خطاب کرتے ہوئے اقوامِ متحدہ میں پاکستان کے القائم مقام مستقل مندوب سفیر عثمان جدون (Usman Jadoon) نے دنیا بھر کے جنگی علاقوں خصوصاً مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں بچوں کے خلاف ہونے والی شدید اور بھیانک خلاف ورزیوں پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

پاکستانی مندوب نے کونسل کو آگاہ کیا کہ بچوں کے حقوق کی یہ سنگین خلاف ورزیاں کسی خلا میں نہیں ہو رہیں، بلکہ بین الاقوامی انسانی حقوق کے قوانین کی کھلم کھلا خلاف ورزیوں، خودکار اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) سے لیس جدید ہتھیاروں کے بے دریغ استعمال، اور عالمی سفارت کاری میں اعتماد کے بحران کا نتیجہ ہیں۔

سفیر عثمان جدون نے انکشاف کیا کہ صرف ایک سال کے دوران مقبوضہ فلسطینی علاقے میں بچوں کی ہلاکتوں، معذوری اور تشدد کے 12,000 سے زائد تصدیق شدہ واقعات ریکارڈ کیے گئے ہیں۔

پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل میں دردناک حقیقت کو اجاگر کرتے ہوئے کہا کہ بے شمار فلسطینی بچے زندگی بھر کے لیے خوف اور شدید نفسیاتی صدمات کا شکار ہو چکے ہیں، جبکہ ہزاروں بچے اپنے اعضاء، ریڑھ کی ہڈی اور سر کے شدید زخموں کی وجہ سے معذوری کی زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

پاکستان نے عالمی برادری اور سلامتی کونسل پر زور دیا کہ وہ غیر ملکی تسلط کے تحت زندگی گزارنے والے معصوم بچوں کے تحفظ، بحالی اور انصاف کی فراہمی کے لیے فوری اور عملی اقدامات اٹھائے اور مجرموں کا احتساب ممکن بنائے۔