نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک شہر کے میئر زوہران کوامے ممدانی (Zohran Kwame Mamdani)، گورنر کیتھی ہوچل (Kathy Hochul) اور ‘سینٹرل پارک کنزرونسی’ کی پریذیڈنٹ و سی ای او بیٹسی اسمتھ (Betsy Smith) نے مشترکہ طور پر 35.7 ملین ڈالر کی لاگت سے تیار ہونے والے ‘نارتھ اینڈ ری سرکولیشن پروجیکٹ’ (North End Recirculation Project) کا باضابطہ سنگِ بنیاد رکھ دیا ہے۔
یہ جدید ترین بنیادی ڈھانچہ پروجیکٹ نیویارک کے مشہور ‘سینٹرل پارک’ اور اس کے گردونواح بالخصوص ہارلیم (Harlem) اور ایسٹ ہارلیم (East Harlem) کے علاقوں کو شدید بارشوں اور اربن فلڈنگ (Urban Flooding) سے محفوظ رکھے گا جبکہ شہر کے پینے کے پانی کے قیمتی ذخائر کو بھی ضائع ہونے سے بچائے گا۔ یہ منصوبے خزاں 2028 تک مکمل ہونے کی توقع ہے۔
یہ نظام سینٹرل پارک کے تین تاریخی آبی ذخائر — دی پول (The Pool)، دی لوک (The Loch) اور ہارلیم میر (Harlem Meer) کے پانی کو فلٹر کر کے دوبارہ استعمال کے قابل بنائے گا۔ شدید بارشوں کی پیشگوئی پر، ہارلیم میر کے پانی کی سطح کو پہلے سے کم کر کے بارش کا زیادہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت پیدا کی جائے گی۔
یہ پروجیکٹ سالانہ 13 کروڑ 20 لاکھ گیلن (132 Million Gallons) بارش کے پانی کو شہر کے نالوں میں جانے سے روکے گا، جس سے سیوریج سسٹمز پر بوجھ میں 90 فیصد کمی آئے گی۔
پینے کے پانی کی کھپت میں سالانہ 17 کروڑ 50 لاکھ گیلن (175 Million Gallons) کی بچت ہوگی۔
اس 35.7 ملین ڈالر کے پروجیکٹ میں نیویارک سٹی کیپیٹل فنڈنگ سے 19.6 ملین ڈالر (بشمول 14.2 ملین ڈالر DEP فنڈز)، نیویارک اسٹیٹ انوائرمنٹل بانڈ ایکٹ سے 10 ملین ڈالر کا گرین ریزیلینسی گرانٹ، اور نیویارک سٹی کونسل اسپیکر جولی مینن کی جانب سے 2 ملین ڈالر شامل ہیں۔
میئر زوہران ممدانی نے کہا کہ شدید موسم اور کلائمیٹ چینج سے لڑنے کے لیے یہ پائیدار سرمایہ کاری نیویارک کو محفوظ اور باصلاحیت بنائے گی۔ گورنر کیتھی ہوچل نے واضح کیا کہ جہاں واشنگٹن میں کلائمیٹ فنڈز پر کٹوٹیاں کی جا رہی ہیں، نیویارک اپنی کمیونٹیز کے محفوظ مستقبل کے لیے مستقل قدم اٹھا رہا ہے۔





