لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

غزہ میں انسانی حقوق اورعالمی قانون کی پاسداری کیلئےآوازاٹھانےپرناوی پلائی کوعالمی اعزاز

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نورمبرگ / واشنگٹن: نارویجن نوبل کمیٹی نے جنوبی افریقہ سے تعلق رکھنے والی 85 سالہ بین الاقوامی قانون دان اور اقوامِ متحدہ کی سابق ہائی کمشنر ناوی پلائی (Navi Pillay) کو بین الاقوامی قانون کی پاسداری، انسانی حقوق کے تحفظ اور غزہ میں سچائی کی آواز بلند کرنے پر سال 2026 کے نوبل امن انعام (Nobel Peace Prize 2026) سے نوازنے کا اعلان کیا ہے۔

نوبل انعام کا اعلان ہوتے وقت ناوی پلائی جرمنی کے شہر نورمبرگ میں انسانی حقوق کے وکلاء کے اجلاس میں موجود تھیں جہاں انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ “سچ بولنے کے لیے ہمت کی نہیں بلکہ قانون اور حقائق کے غیر جانبدارانہ تجزیے کی ضرورت ہوتی ہے”۔ واضح رہے کہ ناوی پلائی نے اقوامِ متحدہ کے کمیشن کی سربراہ کی حیثیت سے رپورٹ پیش کی تھی جس میں اسرائیل کے اقدامات کو نسل کشی (Genocide) قرار دیا گیا تھا۔

اسرائیل نے نوبل کمیٹی کے فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے اسے “اسرائیل مخالف تعصب کو قانونی حیثیت دینے کی کوشش” قرار دیا۔ اسرائیلی وزارتِ خارجہ کے ترجمان نے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “اگر جھوٹ اور بغض کا کوئی انعام ہوتا تو ناوی پلائی اس کی سب سے بڑی دعویدار ہوتیں”۔

نوبل انعام کے اعلان کے کچھ ہی گھنٹوں بعد ٹرمپ انتظامیہ نے انٹرنیشنل کرمنل کورٹ (ICC) پر وسیع تر معاشی پابندیوں کا اعلان کر دیا۔ امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) نے کہا کہ ان اقدامات کا مقصد امریکیوں اور اسرائیلیوں کو کسی بھی قانونی کارروائی سے محفوظ بنانا ہے۔

بین الاقوامی عدالتِ انصاف (ICC) نے امریکی پابندیوں کو “انصاف کی راہ میں رکاوٹ ڈالنے کی کوشش” اور بین الاقوامی قانون کی بنیادی روح پر حملہ قرار دیا ہے۔

جنوبی افریقہ کے صدر سیریل راما فوسا اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے ناوی پلائی کی اس کامیابی کو سراہتے ہوئے اسے جنوبی افریقہ کے لیے ایک عظیم تاریخی لمحہ اور عالمی انصاف کی فتح قرار دیا ہے۔