لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی میں نیتن یاہوکا متنازع خطاب:درجنوں مندوبین کابائیکاٹ، نیویارک میں شدیداحتجاج

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک:اسرائیلی وزیراعظم بن یامین نیتن یاہو نے اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی کے اجلاس سے خطاب کے دوران اپنی حکومت کی پالیسیوں کا دفاع کرتے ہوئے عالمی تنقید کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

نیتن یاہو جیسے ہی ڈائس پر پہنچے، فلسطین کی اپیل پر درجنوں ممالک کے سفارت کاروں اور مندوبین نے احتجاجاً ہال سے واک آؤٹ کر دیا، جس کے باعث ہال میں ہنگامہ آرائی کی صورتحال پیدا ہو گئی اور صدرِ مجلس کو نظم و ضبط برقرار رکھنے کے لیے ہتھوڑا بجانا پڑا۔

نیتن یاہو نے ہال سے جانے والے سفارت کاروں کو “اخلاقی بزدل” قرار دیتے ہوئے اپنے خطاب میں غزہ میں نسل کشی کے الزامات کو سختی سے مسترد کیا اور کہا کہ “یہ نسل کشی نہیں بلکہ اس کے برعکس ہے، اور ہم یہ جنگ ہر صورت جیتیں گے۔”

فلسطینی وفد کی درخواست پر عالمی برادری کے درجنوں نمائندوں نے نیتن یاہو کے خطاب کا بائیکاٹ کرتے ہوئے ہال چھوڑ دیا تاکہ یہ پیغام دیا جا سکے کہ وہ اسرائیلی جنگی جرائم کے ساتھ شراکت دار بننے پر تیار نہیں ہیں۔

ٹرمپ انتظامیہ نے مسلسل دوسرے سال فلسطینی صدر محمود عباس اور ان کے وفد کو نیویارک آنے کے لیے ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ محمود عباس نے رام اللہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کرتے ہوئے اس اقدام کو غیر قانونی قرار دیا اور خبردار کیا کہ اسرائیل ایک اور ‘نکبہ’ (Nakba) کی کوشش کر رہا ہے۔

نیتن یاہو نے اپنے سیاسی حریفوں اور ناقدین کو نشانہ بناتے ہوئے ترکی کے صدر رجب طیب اردگان کو “جابر” قرار دیا اور نیویارک کے میئر زہران ممدانی پر بھی شدید تنقید کی۔

نیتن یاہو نے دعویٰ کیا کہ فروری میں امریکہ کے ساتھ مل کر ایران کی جوہری تنصیبات پر حملہ کرنا ان کی زندگی کا سب سے آسان فیصلہ تھا کیونکہ ایران کا جوہری پروگرام وجودی خطرہ تھا۔

اقوامِ متحدہ کے ہیڈ کوارٹر کے باہر ہزاروں مظاہرین نے نیتن یاہو کی آمد اور غزہ میں جنگ کے خلاف شدید احتجاج کیا۔ نیویارک پولیس نے 100 سے زائد مظاہرین اور مقامی حکام کو گرفتار کر لیا۔

اسرائیل میں جلد متوقع انتخابات کے پیش نظر نیتن یاہو کا یہ خطاب عالمی سفارت کاری سے زیادہ اپنی سخت گیر رائٹ ونگ ووٹ بینک کو متحرک کرنے کا ایک ذریعہ قرار دیا جا رہا ہے۔