لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

مالیاتی بےضابطگیوں اوراختیارات کےناجائز استعمال کےالزامات،کمبرلی گلیفوائل عہدےسے فارغ

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن / ایتھنز: مالیاتی بے ضابطگیوں، اختیارات کے ناجائز استعمال اور “پے فار پلے” (رقم کے عوض رسائی) کے اسکینڈل میں گھری کمبرلی گلیفوائل (Kimberly Guilfoyle) کو بالآخر یونان میں امریکی سفیر کے عہدے سے مستعفی ہونے کا حکم دے دیا گیا ہے۔

وائٹ ہاؤس کی نئی پریس سیکرٹری کیٹ زکاریا (Katie Zacharia) نے منگل کے روز اپنی پہلی پریس بریفنگ میں باضابطہ تصدیق کی کہ وائٹ ہاؤس نے گلیفوائل سے فوری استعفیٰ طلب کر لیا ہے۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے گلیفوائل کی برطرفی پر سخت موقف اپنایا۔ ٹرمپ نے کہا کہ “جو کچھ میں نے رپورٹوں میں پڑھا، مجھے وہ بالکل پسند نہیں آیا”۔ جب ان سے گلیفوائل کے سابق خاندانی تعلقات (صدر کے بڑے بیٹے ڈونلڈ ٹرمپ جونیئر کی سابقہ منگیتر) کے بارے میں پوچھا گیا تو انہوں نے واضح کیا کہ “وہ میرے خاندان کا حصہ نہیں تھیں، وہ کافی عرصہ پہلے میرے بیٹے کے ساتھ رہیں”۔

گلیفوائل پر الزام ہے کہ سفیر بننے سے قبل انہوں نے ٹرمپ کے ایک ڈونر ایرک ڈیٹرز سے اپنے 1 لاکھ ڈالر کے کریڈٹ کارڈ بل کی ادائیگی کا مطالبہ کیا تھا اور بدلے میں انتظامیہ تک رسائی کا وعدہ کیا تھا۔ تاہم ان کے وکلاء نے اس کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ یہ بقایا پیشہ ورانہ فیسوں کی وصولی تھی۔

ذرائع کے مطابق امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو (Marco Rubio) گلیفوائل کے روئیے اور الزامات سے شدید نالاں تھے اور انہیں جلد از جلد عہدے سے ہٹانے کے حامی تھے۔ گلیفوائل نے ابتدائی طور پر استعفیٰ دینے سے انکار کیا تھا لیکن بالآخر انہیں ہٹا دیا گیا۔

اسٹیٹ ڈیپارٹمنٹ کے آفس آف دی انسپکٹر جنرل (OIG) نے گلیفوائل کے خلاف تحائف کی وصولی، یونانی کنسٹرکشن اور انرجی کمپنیوں کی لابنگ سے متعلق تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے، جبکہ ایوانِ نمائندگان کی خارجہ امور کمیٹی نے بھی انہیں جوابدہی کے لیے طلب کرنے کا اعادہ کیا ہے۔