لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اسرائیل میں حکومت سازی کابحران،نتن یاہواور اپوزیشن دونوں اکثریت سےمحروم

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

یروشلم / تل ابیب (ویب ڈیسک):اسرائیلی پارلیمانی انتخابات کے نتائج آنے کے بعد ملک ایک بار پھر شدید سیاسی تعطل اور تاریخی موڑ پر کھڑا ہو گیا ہے۔ وزیراعظم بنیامین نتن یاہو (Benjamin Netanyahu) اور اپوزیشن کے مرکزی قائد گادی آئزنکوٹ (Gadi Eisenkot) دونوں کے پاس حکومت سازی کے لیے 61 نشستوں کی درکار اکثریت موجود نہیں ہے। اس صورتحال میں تاریخی 19 نشستیں حاصل کرنے والی عرب جماعتیں پوزیشن قائم کر چکی ہیں۔

اس سیاسی بند گلی میں آئزنکوٹ اور ان کے اتحادیوں کے پاس دو واضح راستے بچے ہیں: یا تو وہ تاریخی روایت کو توڑتے ہوئے عرب جماعتوں کے ساتھ معاہدہ کریں یا پھر نتن یاہو کے ساتھ قومی یکجہتی کی حکومت (Unity Government) قائم کریں۔

لیکوڈ پارٹی کے عہدیداروں نے دعویٰ کیا ہے کہ آئزنکوٹ کے پاس نتن یاہو کی حکومت میں شامل ہونے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں ہے۔ تاہم، سیاسی تجزیہ کاروں کے مطابق یہ قدم آئزنکوٹ کے لیے سیاسی طور پر خودکشی کے مترادف ہوگا، کیونکہ انہوں نے مہم کے دوران نتن یاہو کے ساتھ تعاون نہ کرنے کا حلف اٹھایا تھا۔

جائنٹ لسٹ اور رام (Ra’am) کی عرب جماعتوں نے غازہ جنگ اور جنوبی لبنان کے محاذ کے باعث آئزنکوٹ کی کابینہ میں باضابطہ شمولیت تو مسترد کر دی ہے، لیکن نتن یاہو کو اقتدار سے باہر رکھنے کے لیے انہوں نے آئزنکوٹ کی اقلیتی حکومت (Minority Government) کو باہر سے ووٹنگ کی تکنیکی حمایت کی پیشکش کی ہے۔

نتن یاہو عرب ووٹوں کی قانونی حیثیت پر حملے کر کے آئزنکوٹ پر یہ دباؤ بڑھا رہے ہیں کہ وہ عرب جماعتوں کا ساتھ نہ لیں، جس سے آئزنکوٹ مجبور ہو کر دائیں بازو کی طرف جھک جائیں۔ دوسری جانب آئزنکوٹ عرب جماعتوں سے دوری برقرار رکھتے ہوئے لیکوڈ پارٹی سے روایتی صیہونی ارکان کو توڑنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

تازہ ترین شمار کے مطابق اسرائیلی کنیسیٹ میں دائیں بازو اور مرکز دائیں کے پاس 66.5% اور مذہبی الٹرا آرتھوڈوکس جماعتوں کے پاس 11% ووٹ ہیں۔ فلسطینیوں سے تعاون کی حامی واحد صیہونی پارٹی ‘دی ڈیموکریٹس’ کو صرف 6.5 فیصد ووٹ ملے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ صیہونی سیاست میں عربوں کو اقتدار سے باہر رکھنے کی کشمکش کتنی شدید ہو چکی ہے۔