نیویارک : نیویارک شہر کے علاقے ماربل ہل (Marble Hill) میں امریکی امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی کارروائی کے دوران فائرنگ کا واقعہ پیش آیا، جس کے نتیجے میں ایک شخص زخمی ہوگیا۔ فراہم کردہ معلومات کے مطابق زخمی شخص کو فوری طور پر قریبی اسپتال منتقل کیا گیا، جہاں اس کی حالت مستحکم بتائی گئی اور وہ زیرِ علاج ہے۔
نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کے مطابق فائرنگ کے وقت پولیس اہلکار موقع پر موجود نہیں تھے اور نہ ہی وہ وفاقی امیگریشن کارروائی میں شریک تھے۔ واقعے کے بعد سوشل میڈیا پر گردش کرنے والی ویڈیوز میں وفاقی ایجنٹوں کو امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ کی انفورسمنٹ اینڈ ریموول آپریشنز (ERO) اور فیوجیٹو آپریشنز سے متعلق جیکٹس پہنے دیکھا گیا۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) کے مطابق وفاقی ایجنٹ ایک ایسے شخص کو گرفتار کرنے کے لیے کارروائی کر رہے تھے جس کا تعلق ڈومینیکن ریپبلک سے بتایا گیا ہے۔ حکام نے دعویٰ کیا کہ مذکورہ شخص ٹرینیٹاریوس (Trinitarios) گینگ سے وابستہ تھا اور اس پر گرینڈ لارسی اور ڈکیتی سمیت سنگین جرائم میں ملوث ہونے کے الزامات تھے۔
DHS نے نیویارک کی سینکچوئری پالیسیوں پر تنقید کرتے ہوئے دعویٰ کیا کہ اس شخص کو نیویارک پولیس نے 2023 میں گرفتار کیا تھا، تاہم مقامی پالیسیوں کے تحت اسے رہا کر دیا گیا۔ وفاقی حکام کے مطابق اس نوعیت کی پالیسیاں قانون نافذ کرنے والے اہلکاروں کے لیے خطرات پیدا کر سکتی ہیں۔
حکام کے مطابق کارروائی کے دوران ایک ICE افسر نے فائرنگ کی، جس کے نتیجے میں مطلوب شخص زخمی ہوگیا۔ وفاقی ایجنٹوں نے اسے طبی امداد فراہم کی، جس کے بعد اسے اسپتال منتقل کیا گیا۔
حکام کے مطابق وفاقی تحقیقاتی ادارہ (FBI) اور ہوم لینڈ سیکیورٹی انویسٹی گیشنز (HSI) واقعے کی تحقیقات کر رہے ہیں تاکہ فائرنگ کے حالات اور کارروائی سے متعلق حقائق کا تعین کیا جا سکے۔
نیویارک کی گورنر کیتھی ہوچول (Kathy Hochul) نے واقعے پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ نیویارک کے شہریوں کو حقیقت جاننے کا حق حاصل ہے اور وفاقی حکام سے شفاف اور مکمل تحقیقات کی توقع کی جاتی ہے۔
دوسری جانب نیویارک سٹی کے میئر زہران ممدانی (Zohran Mamdani) کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ انہوں نے واقعے کے بعد صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا۔ ممدانی نے سوشل میڈیا پر امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کے ادارے کو ختم کرنے کے مطالبے کا بھی اعادہ کیا۔
واقعے کے بعد وفاقی امیگریشن کارروائیوں، مقامی حکام اور وفاقی اداروں کے درمیان تعاون، اور نیویارک کی سینکچوئری پالیسیوں سے متعلق بحث ایک بار پھر توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔





