نوک / واشنگٹن : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے گرین لینڈ (Greenland) میں تیل، گیس اور معدنیات کے “وسیع پیمانے (Massive) پر وسائل کی تلاش شروع ہونے” کے دعوے کو گرین لینڈ کی حکومت نے باضابطہ طور پر مسترد کر دیا ہے۔
گرین لینڈ کے نائب وزیرِ معدنیات جورگن ہیمکن ہولم (Jørgen Hammeken-Holm) نے برطانوی و امریکی میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے واضح کیا کہ اگرچہ کچھ امریکی کمپنیاں وہاں متحرک ہیں، لیکن ہم ابھی بڑے پیمانے پر تحقیق اور نکالنے کے عمل سے ‘بہت دور’ ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ علاقے میں فی الوقت چھوٹے پیمانے پر تحقیقات جاری ہیں جنہیں فعال اور تجارتی طور پر قابلِ عمل بنانے میں کئی سال لگ سکتے ہیں۔
ماہرین اور محققین کے مطابق گرین لینڈ کا 80 فیصد حصہ آرکٹک کی میلوں موٹی برف کی تہہ سے ڈھکا ہوا ہے، جہاں بنیادی ڈھانچے (Infrastructure) کا شدید فقدان ہے اور برف کے نیچے سے معدنیات نکالنا انتہائی دشوار اور بے پناہ مہنگا عمل ہے۔
صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے ‘ٹرتھ سوشل’ (Truth Social) پر پوسٹ کرتے ہوئے دعویٰ کیا تھا کہ گرین لینڈ میں دنیا کے کسی بھی حصے سے زیادہ تیل کے ذخائر آسانی سے دستیاب ہیں اور آئندہ امریکہ پر ہونے والے کسی بھی حملے کا دفاع گرین لینڈ کے دفاعی نظام کے ذریعے کیا جائے گا۔
گزشتہ ماہ امریکہ، ڈنمارک اور گرین لینڈ کے درمیان 1951ء کے دفاعی معاہدے میں معمولی ترمیم کا ایک معاہدہ طے پایا تھا جس میں ڈنمارک کی حاکمیت اور گرین لینڈ کے عوام کی خود مختاری کا اعتراف کیا گیا، جبکہ امریکی فوجی اڈوں اور معاشی تعاون پر اتفاق کیا گیا۔ تاہم، اس معاہدے میں تیل یا گیس کی تلاش کا کوئی باضابطہ ذکر شامل نہیں ہے۔





