زوریخ: فیفا (FIFA) کے صدر جانی انفانتینو (Gianni Infantino) کو ورلڈ کپ کے اہم مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو حصص فروخت کرنے کی ناکام کوششوں پر فیفا کونسل کے بند کمرہ اجلاس میں شدید سوالات کا سامنا کرنا پڑا۔
عالمی فٹ بال باڈی کے سینیئر ارکان کے مطابق انفانتینو نے اجلاس کے دوران “کوئی تسلی بخش جواب نہیں دیا”، تاہم اس متنازع منصوبے پر ناکامی پر انہوں نے معافی ضرور مانگ لی ہے۔
جرمن فٹ بال ایسوسی ایشن (DFB) کے صدر اور فیفا کونسل کے رکن برنڈ نیوینڈورف (Bernd Neuendorf) نے زوریخ میں ہیڈ کوارٹرز میں ہونے والے اجلاس کے بعد میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ “ہم نے کئی اہم اور سخت سوالات پوچھے، لیکن میرے نقطہ نظر سے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا”۔
جانی انفانتینو نے جولائی کے آخر میں اعلان کیا تھا کہ وہ فیفا کے پریمیم مقابلوں میں نجی سرمایہ کاروں کو لانا چاہتے ہیں، جس پر یورپ، ایشیا اور شمالی و وسطی امریکہ کے فیڈریشنز کی جانب سے زبردست بغاوت اور تنقید کی گئی تھی۔
فیفا کی جانب سے جاری کردہ ویڈیو میں جانی انفانتینو کا کہنا تھا کہ “میں نے کمیونیکیشن اور مشاورت کے عمل میں ہونے والی غلطیوں پر معافی مانگی ہے، لیکن یہ یاد رکھنا اہم ہے کہ یہ صرف ایک تجویز تھی جسے مستقل طور پر واپس لے لیا گیا ہے اور یہ کسی بھی شکل میں دوبارہ نہیں آئے گی”۔
فیفا کی نائب صدر اور انگلش فٹ بال ایسوسی ایشن کی سربراہ ڈیبی ہیوٹ (Debbie Hewitt) نے کہا کہ جب تک انفانتینو تمام مطلوبہ دستاویزات جاری نہیں کرتے اور اہم سوالات کے جواب نہیں دیتے، وہ “فیفا صدر بننے کے لائق نہیں ہیں”۔ ہیوٹ نے مزید کہا کہ کونسل کے ارکان سے سوالات مانگے گئے تھے لیکن FFE کے کاغذات سمیت کسی بھی چیز کا تسلی بخش جواب نہیں دیا گیا۔
اجلاس میں فیفا نے اگلے چار سالوں کے لیے 6.35 بلین ڈالر کے ترقیاتی فنڈ کے قیام کی تصدیق کی ہے، جسے دسمبر میں ہونے والے اگلے اجلاس میں حتمی شکل دی جائے گی۔ اس فنڈ کے ذریعے تمام 211 فیڈریشنز کو 25 ملین ڈالر کی ادائیگی کی جائے گی۔





