لاس اینجلس / کیلیفورنیا (ویب ڈیسک): امریکی ریاست کیلیفورنیا کے مڈٹرم انتخابات سے چند روز قبل ٹرمپ انتظامیہ کو ایک بڑا عدالتی جھٹکا لگا ہے۔
امریکی ڈسٹرکٹ جج ڈیوڈ کارٹر (David Carter) نے امریکی محکمہ انصاف (DOJ) کی اس درخواست کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے جس میں کیلیفورنیا کے انتخابی حکام کو ان 20,000 ووٹرز کے ووٹ الگ رکھنے اور نہ گننے کا حکم دینے کی استدعا کی گئی تھی جنہیں غیر ملکی (Non-citizens) قرار دیا گیا تھا۔
جج ڈیوڈ کارٹر نے بدھ کی شام جاری کیے گئے اپنے تاریخی فیصلے میں محکمہ انصاف کی اس قانونی کارروائی کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ امریکی تاریخ میں پہلے کبھی وفاقی حکومت نے انتخابات کے عین موقع پر کسی ریاست کو اپنے آئینی انتخابی نظام سے انحراف کرنے اور انتظامیہ کی مرضی کے آگے جھکنے پر مجبور نہیں کیا۔
تقریباً دو ہفتے قبل محکمہ انصاف نے لاس اینجلس اور سیکرامنٹو کے انتخابی حکام کو ایک یو ایس بی (USB) ڈرائیو فراہم کی تھی جس میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ ریاست کی ووٹر لسٹ میں 20,000 غیر ملکیوں کے نام شامل ہیں۔
محکمہ انصاف نے حکام کو صرف 48 گھنٹے کی مہلت دیتے ہوئے دھمکی دی تھی کہ اگر ان ووٹوں کو الگ نہ کیا گیا تو قانونی کارروائی کی جائے گی۔
جج ڈیوڈ کارٹر نے اپنے فیصلے میں واضح لکھا: “یہ کیس ہر امریکی شہری کے آزادانہ اور منصفانہ الیکشن میں ووٹ کے حق سے متعلق ہے۔ اس مقدمے کے ذریعے وفاقی حکومت عدالت کو یہ باور کرانا چاہتی ہے کہ وہ واحد خودمختار ادارہ ہے، لیکن کیلیفورنیا اور اس کے عوام بھی اسی طرح خود مختار ہیں”۔
کیلیفورنیا میں 2 کروڑ 30 لاکھ سے زائد درج شدہ ووٹرز موجود ہیں اور غیر ملکی افراد کا ووٹ کاسٹ کرنا ایک انتہائی نایاب عمل ہے۔ ابتدائی تحقیقات میں معلوم ہوا کہ محکمہ انصاف کی جانب سے فراہم کردہ فہرست شدید خامیوں کا شکار تھی اور اس کا مقصد صرف انتخابات کی شفافیت پر سوالات اٹھانا تھا۔





