لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

NYC Officials Warn Delivery Apps After Major Settlement

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک (ویب ڈیسک): نیویارک سٹی کے میئر زہران مامدانی اور محکمہ برائے تحفظِ صارفین و ورکرز (DCWP) نے فوڈ ڈیلیوری پلیٹ فارم ‘ہنگری پانڈا’ (HungryPanda) کے خلاف قانونی کارروائی کرتے ہوئے 8 لاکھ 75 ہزار ڈالرز سے زائد کے تصفیے کا اعلان کیا ہے۔

یہ کارروائی شہر کے ‘تھرڈ پارٹی فوڈ ڈیلیوری سروس قوانین’ کی خلاف ورزی اور چھوٹے ریستورانوں سے غیر قانونی فیسیں وصول کرنے پر کی گئی ہے۔

تحقیقات میں انکشاف ہوا کہ ‘ہنگری پانڈا’ نے نیویارک کے ‘فیس کیپ لا’ (Fee Cap Law) کی خلاف ورزی کرتے ہوئے خاص طور پر ایشیائی تارکینِ وطن کی ملکیت والے ریستورانوں سے ‘جنک فیس’ کی مد میں ہزاروں ڈالرز بٹورے۔

کمپنی 380 سے زائد متاثرہ ریستورانوں کو 5 لاکھ 80 ہزار ڈالرز ہرجانہ ادا کرے گی۔

اس کے علاوہ کمپنی کو 2 لاکھ 94 ہزار ڈالرز سول پنالٹی اور فیسوں کی مد میں ادا کرنے ہوں گے۔
ےمحکمہ (DCWP) کے مطابق، ہنگری پانڈا نے غیر قانونی چارجز چھپانے کے لیے مختلف ہتھکنڈے استعمال کیے، جن میں متعدد فیسوں کو ایک ہی لائن میں لکھنا، فیسوں کے نام بار بار بدلنا اور غیر قانونی کٹوتیوں کو “پرموشن ڈڈکشن” کا نام دینا شامل تھا۔

میئر زہران مامدانی نے اپنے بیان میں کہا کہ “محلے کے ریستوران پہلے ہی بڑھتی ہوئی لاگت سے پریشان ہیں، انہیں ایپس کی چھپی ہوئی غیر قانونی فیسوں کا بوجھ نہیں اٹھانا چاہیے۔ یہ تصفیہ ان کاروباروں کو رقم واپس کرے گا جن سے زیادہ پیسے لیے گئے تھے۔”

ڈپٹی میئر جولی سو اور کمشنر سیموئیل لیون نے واضح کیا کہ نیویارک سٹی چھوٹے کاروباری مالکان کے حقوق کا تحفظ کرے گا اور کسی بھی پلیٹ فارم کو قانون توڑنے کی اجازت نہیں دی جائے گی۔