واشنگٹن: امریکا میں غیر ملکی طلبہ اور محققین کے قیام کی مدت محدود کرنے کے لیے ٹرمپ انتظامیہ کی جانب سے متعارف کرائی گئی نئی پالیسی تنازع کا شکار ہوگئی ہے۔ امریکی جامعات، اساتذہ کی تنظیموں اور اعلیٰ تعلیم سے وابستہ متعدد اداروں نے نئی پالیسی کے خلاف وفاقی عدالت سے رجوع کرلیا ہے۔
رپورٹس کے مطابق امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی (DHS) نے ایک نیا ضابطہ متعارف کرایا ہے جس کے تحت غیر ملکی طلبہ کے لیے پہلے سے رائج “Duration of Status” نظام ختم کیا جا رہا ہے۔ اس نظام کے تحت طلبہ اپنی تعلیم یا تربیتی پروگرام مکمل ہونے تک قانونی حیثیت برقرار رکھتے ہوئے امریکا میں قیام کرسکتے تھے۔ نئی پالیسی کے تحت بیشتر بین الاقوامی طلبہ اور ایکسچینج وزٹرز کے قیام کی مدت زیادہ سے زیادہ چار سال مقرر کی جائے گی، جبکہ اس سے زیادہ قیام کے لیے باقاعدہ توسیع حاصل کرنا ہوگی۔
نئی پالیسی کے خلاف دائر مقدمے میں NAFSA، Presidents’ Alliance on Higher Education and Immigration، American Federation of Teachers سمیت متعدد اعلیٰ تعلیمی اور مزدور تنظیمیں شامل ہیں۔ درخواست گزاروں نے مؤقف اختیار کیا ہے کہ DHS نے پالیسی میں بنیادی تبدیلی کرتے ہوئے انتظامی قوانین اور مقررہ طریقہ کار کی مکمل پابندی نہیں کی۔
مقدمہ امریکی ریاست میساچوسٹس کی وفاقی عدالت میں دائر کیا گیا ہے۔ درخواست گزاروں نے عدالت سے نئی پالیسی کو کالعدم قرار دینے کے ساتھ ساتھ اس کے نفاذ کو روکنے کے لیے عارضی حکم جاری کرنے کی بھی درخواست کی ہے۔
امریکا میں مقیم غیرملکی طلبا کو15 ستمبر تک ملک چھوڑنےکی ہدایت
تعلیمی اداروں کا کہنا ہے کہ چار سال کی مقررہ مدت کئی طلبہ کے لیے کافی نہیں ہوگی، خصوصاً ایسے طلبہ کے لیے جو پی ایچ ڈی، طویل مدتی تحقیق یا دیگر پیچیدہ تعلیمی پروگراموں میں زیرِ تعلیم ہیں۔
مخالفین کے مطابق اگر طلبہ کو چار سال کے بعد توسیع کے لیے الگ درخواست دینا پڑی تو اس سے نہ صرف طلبہ بلکہ جامعات کے بین الاقوامی طلبہ کے دفاتر پر بھی اضافی انتظامی بوجھ پڑے گا۔ ان کا یہ بھی کہنا ہے کہ غیر یقینی صورتحال امریکا کو عالمی طلبہ اور باصلاحیت محققین کے لیے کم پرکشش بنا سکتی ہے۔
حالیہ عدالتی دستاویزات میں بعض جامعات نے بتایا ہے کہ نئی پالیسی کا اثر اس کے باقاعدہ نفاذ سے پہلے ہی نظر آنا شروع ہوگیا ہے۔ کچھ اداروں نے بین الاقوامی طلبہ کی درخواستوں میں کمی اور بعض طلبہ کی داخلے سے دستبرداری کی نشاندہی کی ہے۔
امریکی محکمہ ہوم لینڈ سیکیورٹی نے نئی پالیسی کا دفاع کرتے ہوئے مؤقف اختیار کیا ہے کہ موجودہ نظام کا غلط استعمال کیا جا سکتا ہے اور بعض غیر ملکی افراد طویل عرصے تک امریکا میں قیام کے لیے طلبہ ویزا نظام سے فائدہ اٹھاتے رہے ہیں۔
حکومت کے مطابق مقررہ مدت کا مقصد ویزا قوانین کی پابندی یقینی بنانا اور ایسے افراد کی حوصلہ شکنی کرنا ہے جو تعلیمی ویزے کے ذریعے غیر ضروری طور پر امریکا میں قیام کو طول دیتے ہیں۔
نئی پالیسی کا نفاذ 15 ستمبر 2026 سے متوقع ہے، تاہم عدالت میں دائر مقدمے کے باعث اس کے مستقبل پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔ عدالت اگر درخواست گزاروں کے حق میں عارضی حکم جاری کرتی ہے تو پالیسی کے نفاذ میں رکاوٹ پیدا ہوسکتی ہے، جبکہ مقدمے کے حتمی فیصلے کا اثر امریکا میں تعلیم حاصل کرنے والے لاکھوں غیر ملکی طلبہ اور مستقبل کے بین الاقوامی طلبہ پر پڑ سکتا ہے۔
ماہرین کے مطابق یہ تنازع صرف ویزا قوانین تک محدود نہیں بلکہ امریکا کی اعلیٰ تعلیم، عالمی طلبہ کی آمد، تحقیقی سرگرمیوں اور مستقبل کی عالمی افرادی قوت سے بھی جڑا ہوا ہے۔ اب نظریں وفاقی عدالت کی آئندہ کارروائی پر ہیں، جہاں یہ طے ہونا ہے کہ نئی پالیسی قانونی تقاضوں پر پوری اترتی ہے یا نہیں۔





