نیویارک / واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکہ کی معروف بلاک چین تجزیاتی فرم چین ایلنسز (Chainalysis) نے بائنینس (Binance) ہیکنگ کیس سے متعلق ایک سنسنی خیز اور چونکا دینے والا انکشاف کیا ہے۔ بلاک چین کی سیکیورٹی ٹیم کے مطابق ہیکرز مسروقہ اربوں ڈالرز کے کرپٹو اثاثہ جات کو قانون نافذ کرنے والے اداروں اور فریزنگ عمل سے بچانے کے لیے ”کبھی نہ دیکھے گئے بلاک چین پیٹرنز“ (Never-seen-before patterns) کا استعمال کر رہے ہیں۔
چین ایلنسز کے مطابق ہیکرز کی جانب سے انتہائی کم وقت میں ہزاروں ٹرانزیکشنز انجام دی جا رہی ہیں، جس سے یہ بات واضح ہوتی ہے کہ وہ فنڈز کے سراغ کو مکمل طور پر گمراہ کرنے کے لیے ایڈوانس آٹومیشن اور بوٹس کا سہارا لے رہے ہیں۔
ہیکرز فنڈز کو صرف ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقل نہیں کر رہے، بلکہ وہ بار بار انہی پرانے ایڈریسز پر فنڈز کو گردش (Circulate) دے رہے ہیں جن کا استعمال سیکیورٹی اداروں کو الجھانے اور کرائم ٹریل کو تباہ کرنے کے لیے کیا جا رہا ہے۔
ہیکرز کے پاس موجود غیر منجمد (Unfreezable) کرپٹو کرنسیز جیسے بٹ کوائن (Bitcoin) اور ایتھریم (Ethereum) تو موجود ہیں، لیکن ان کے ساتھ ساتھ اربوں ڈالرز مالیت کے ‘تیتھر’ (USDT) اور ‘یو ایس ڈی سی’ (USDC) جیسے اسٹیبل کوائنز بھی تھے جنہیں فریز کیا جا سکتا ہے۔
حکام کی فریزنگ سے بچنے کے لیے ہیکرز نے صرف 20 منٹ کے اندر 325 ملین ڈالر کے اسٹیبل کوائنز کو 285 ملین ڈالر مالیت کے ‘ایتھریم’ (ETH) میں تبدیل کر لیا۔ اس کے چند منٹ بعد باقی ماندہ 175 ملین ڈالر کے اسٹیبل کوائنز کو عارضی والٹس (Stopover wallets) میں بھیج دیا گیا۔
ہیکرز کی تمام تر چالاکیوں کے باوجود بلاک چین انڈسٹری، چین ایلنسز اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کا تعاقب کیا اور ایسٹرن ٹائم کے مطابق شام 5:14 بجے تک ہیکرز کے پاس موجود باقی ماندہ اسٹیبل کوائنز کو فریز کرنے کا عمل کامیابی سے شروع کر دیا۔





