نیویارک / نيروبی (ویب ڈیسک): اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام (UNEP) کی جانب سے بدھ کے روز جاری کی جانے والی سالانہ ‘ایمیشنز گیپ رپورٹ’ (Emissions Gap Report) میں دنیا کو شدید متنبہ کیا گیا ہے کہ زمین کے درجہ حرارت میں اضافے کو پیرس کلائمیٹ معاہدے کے تحت 1.5 ڈگری سیلسیس تک محدود رکھنے کا ہدف اب باضابطہ طور پر ہاتھ سے نکل چکا ہے اور عالمی درجہ حرارت کا اس حد کو عبور کرنا اب “ناگزیر اور قریب الوقوع” (Imminent and Unavoidable) ہو گیا ہے۔
ترکیہ میں اگلے ماہ منعقد ہونے والی عالمی موسمیاتی کانفرنس ’کوپ 31‘ (COP31) سے قبل سامنے آنے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اب سب سے بڑی ترجیح درجہ حرارت میں اس عارضی اضافے یعنی ’اوور شوٹ‘ (Overshoot) کی مدّت کو کم سے کم رکھنا اور کاربن کے اخراج میں ریکارڈ کمی کے ذریعے اس صدی کے اختتام (2100ء) تک عالمی درجہ حرارت کو واپس 1.5 ڈگری پر لانا ہے۔
اقوامِ متحدہ کی ڈائریکٹر انگر اینڈرسن (Inger Andersen) کے مطابق کم سے کم اوور شوٹ کے تحت بھی عالمی درجہ حرارت عارضی طور پر 1.7 سے 1.8 ڈگری سیلسیس تک بڑھے گا۔ اس کے لیے دنیا کو 2025 کی سطح کے مقابلے میں 2030ء تک 18 فیصد، 2035ء تک 45 فیصد اور 2040ء تک 69 فیصد کاربن اخراج میں کٹوتی کرنا ہوگی۔
اگر ممالک اپنی موجودہ پالیسیوں پر قائم رہے تو عالمی درجہ حرارت 2.8 ڈگری سیلسیس تک بڑھ سکتا ہے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ پیرس معاہدے سے امریکہ کی دستبرداری اور اخراج میں کمی کے وعدوں سے پیچھے ہٹنے کی وجہ سے یہ خطرہ مزید بڑھ گیا ہے۔
پنسلوانیا یونیورسٹی کے معروف سائنسدان مائیکل مان نے خبردار کیا ہے کہ درجہ حرارت میں 0.1 ڈگری سیلسیس کا مزید اضافہ بھی عالمی جی ڈی پی کو سالانہ 1.2 ٹریلین ڈالر کا مستقل نقصان پہنچائے گا اور 14 کروڑ سے زائد افراد کو جان لیوا گرمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔





