لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

وائٹ ہاؤس نےصدرٹرمپ کےمواصلاتی ریکارڈکوروکنےکیلئے’ایگزیکٹوپریولیج’کااستعمال کردیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

واشنگٹن (ویب ڈیسک):امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی انتظامیہ اور واشنگٹن ڈی سی کے مشہور کینڈی سینٹر (Kennedy Center) کے مستقبل پر جاری قانونی جنگ میں وائٹ ہاؤس نے ‘ایگزیکٹو پریولیج’ (Executive Privilege) کا سہارا لیتے ہوئے صدر کی تمام تر گفت و شنید اور ریکارڈ عدالت میں پیش کرنے سے روک دیا ہے۔

یہ پیشرفت امریکی کانگریس کی رکن جائس بیٹی (Rep. Joyce Beatty) کی جانب سے دائر کردہ مقدمے کے جواب میں سامنے آئی ہے، جس میں کینڈی سینٹر کی عمارت پر ٹرمپ کا نام درج کرنے اور اسے تعمیاتی کاموں کے لیے بند کرنے کے فیصلوں کو چیلنج کیا گیا ہے۔

بدھ کے روز عدالت میں جمع کرائی گئی دستاویزات میں وائٹ ہاؤس کے ڈپٹی کونسل جوشوا ہوئیٹ (Joshua Hoyt) نے موقف اپنایا کہ صدر ٹرمپ، ان کے مشیروں اور کینڈی سینٹر کے عملے کے درمیان تمام رابطے صدارتی امور اور خفیہ مشاورت کی حدود میں آتے ہیں، لہٰذا انہیں عام نہیں کیا جا سکتا۔

رکنِ کانگریس جائس بیٹی کے وکلاء نے وائٹ ہاؤس کے اس اقدام کو “بے مثال اور غیر قانونی” قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ٹرمپ پر یہ مقدمہ بحیثیت صدر نہیں بلکہ نان پرافٹ بورڈ کے چیئرمین کی حیثیت سے دائر کیا گیا ہے۔

وکلاء کے مطابق “ڈونلڈ ٹرمپ ایک نان پرافٹ بورڈ کے چیئرمین ہیں اور ان کے فیصلے ہی اس کیس کی اصل بنیاد ہیں، ایگزیکٹو پریولیج کی آڑ میں حقیقت کو چھپایا جا رہا ہے”۔

صدر ٹرمپ نے گزشتہ سال بورڈ کے متعدد ارکان کو برطرف کر کے خود کو بورڈ کا چیئرمین مقرر کیا تھا، جس کے بعد بورڈ نے عمارت کے سامنے ان کا نام شامل کرنے کی منظوری دی۔

تاہم، امریکی ڈسٹرکٹ جج کرسٹوفر کوپر (Judge Christopher Cooper) نے اس فیصلے کو معطل کرتے ہوئے عمارت سے ٹرمپ کا نام ہٹانے کا حکم جاری کیا تھا۔

عمارت کی حالت اور ڈیمولیشن کا خطرہ: کینڈی سینٹر اس وقت تعمیراتی کاموں کے لیے عارضی طور پر بند ہے۔ وزارتِ انصاف (DOJ) نے دعویٰ کیا ہے کہ عمارت کی مالی بقا صرف ڈونلڈ ٹرمپ کی سرپرستی سے جڑی ہے۔

تاہم انتظامیہ کی جانب سے کینڈی سینٹر کو مکمل طور پر مسمار (Demolish) کرنے کے خدشات بھی ظاہر کیے جا رہے ہیں، جس کا ثبوت حال ہی میں ایئر فورس ون کے اندر سے نظر آنے والے ایک پوسٹر سے ملا جس پر “Kennedy Center DEMOLISH” درج تھا۔