واشنگٹن (ویب ڈیسک): امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی نئی پریس سیکرٹری کیٹی زکریا (Katie Zacharia) اپنے عہدے کا حلف اٹھاتے ہی قانونی اسناد اور اہلیت کے حوالے سے ایک بڑے تنازع کی زد میں آ گئی ہیں۔
منگل کو اپنے پہلے ہی پریس بریفنگ سیشن میں لڑکھڑانے اور بار کے امتحان سے متعلق گول مول جواب دینے کے بعد اب ایک امریکی واچ ڈاگ گروپ نے کیلیفورنیا کے اسٹی بار (State Bar of California) میں باضابطہ شکایت درج کر دی ہے جس میں ان کی قانونی اسناد کی تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا ہے۔
واچ ڈاگ گروپ ’کمپین فار اکاؤنٹیبلٹی‘ کے مطابق 41 سالہ کیٹی زکریا نے بغیر لائسنس کے خود کو وکیل ظاہر کیا ہے اور ایک قدامت پسند نراف پرافٹ تنظیم کی جنرل کونسل کے طور پر اپنا تعارف کرایا ہے۔
یاد رہے کہ صدر ٹرمپ نے گزشتہ جمعہ کو ان کے تقرر کا اعلان کرتے ہوئے انہیں “ایک وکیل” قرار دیا تھا، تاہم صحافیوں اور اداروں کو امریکی ریاستوں کے ریکارڈ میں ان کا کوئی قانون کا لائسنس نہیں ملا۔
منگل کو صحافیوں کی جانب سے یہ پوچھے جانے پر کہ انہوں نے بار کا امتحان کہاں پاس کیا ہے، کیٹی زکریا نے جواب دیا: “جب میں چین منتقل ہوئی تھی”۔ اے ایف پی کو دیے گئے بیان میں بھی انہوں نے امریکی قانون کے لائسنس کی وضاحت کیے بغیر کہا کہ “میں نے تمام مناسب اسناد کے ساتھ بین الاقوامی ٹرانزیکشن لا کی پریکٹس کی ہے”۔
کیٹی زکریا نے 2011 میں پیپرڈین یونیورسٹی (Pepperdine University) کے لاء اسکول سے ڈگری حاصل کی تھی، تاہم صرف قانون کی ڈگری ہونا پریکٹس کا لائسنس حاصل کرنے کے مترادف نہیں ہے۔ کیلیفورنیا بار کے پاس بھی ان کے نام کا کوئی ریکارڈ موجود نہیں ہے، جبکہ ماہرین کے مطابق غیر ملکی شہری چین کا بار امتحان بھی نہیں دے سکتے۔
پہلی پریس بریفنگ اور تنقید: کیٹی زکریا کا پہلا پریس بریفنگ سیشن صرف 14 منٹ پر محیط تھا جس میں انہوں نے زیادہ تر تیاری شدہ نوٹس سے پڑھا، صرف تین دوستانہ میڈیا اداروں کے سوالات لیے، اور ایک موقع پر صدر ٹرمپ کو غلطی سے اپنا شوہر کہہ بیٹھی۔
سابق وائس پردیس سیکرٹری جین ساکی (Jen Psaki) نے ان کے اس ڈیبیو کو ‘سیٹرڈے نائٹ لائیو’ کے کامیڈی اسکیچ سے تشبیہ دی۔ دوسری جانب صدر ٹرمپ نے ان کی کارکردگی کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ “میں نے سوچا وہ بہت اچھی تھیں”۔





