لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

ہوسٹن میں امیگریشن کارروائی کے دوران زخمی شخص کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ گئیں

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

ہوسٹن / واشنگٹن: امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ہوسٹن میں امیگریشن اینڈ کسٹمز انفورسمنٹ (ICE) کی ایک کارروائی کے دوران سنسنی خیز اور متنازعہ واقعہ سامنے آیا ہے، جہاں غیر نشان زدہ سیاہ ایس یو وی (Unmarked Black SUV) کے تعاقب کے دوران ایک شخص شدید زخمی ہو گیا۔

امریکی نشریاتی ادارے سی این این (CNN) کی جانب سے حاصل کردہ سی سی ٹی وی کیمرے کی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ ایجنٹس کی گاڑی تعاقب کر رہی تھی جس کے فوراً بعد متاثرہ شخص پارکنگ لاٹ میں دونوں ٹانگیں ٹوٹنے کی وجہ سے زمین پر پڑا نظر آیا۔

یہ واقعہ نیویارک کے علاقے ماربل ہل میں 5 سالہ بچے کے سامنے ICE ایجنٹس کی فائرنگ کے واقعہ کے چند ہی دنوں بعد پیش آیا ہے جس نے فیڈرل ایجنسی کے طریقہ کار پر ایک بار پھر سنگین سوالات اٹھا دیے ہیں۔

ICE ترجمان کے مطابق ایجنٹس نے ایک پک اپ ٹرک کو روکنے کی کوشش کی تو اس میں سے دو افراد نکل کر بھاگے۔ ٹارگٹڈ شخص ‘خوسے مینڈوزا سروانٹس’ موقع سے فرار ہونے میں کامیاب رہا جبکہ دوسرا شخص 48 سالہ میگوئیل پارا ہرنینڈز (Miguel Parra-Hernandez) پارکنگ لاٹ کی طرف بھاگا۔

متاثرہ شخص کی وکیل کم برونو (Kim Bruno) نے بتایا کہ ان کے موکل کی دونوں ٹانگیں ٹوٹ چکی ہیں اور ان کی سرجری کی جا رہی ہے۔ وہ گزشتہ 34 سالوں سے امریکہ میں مقیم ہیں اور ان کا کوئی بھی مجرمانہ ریکارڈ یا امیگریشن کی خلاف ورزی کی ہسٹری نہیں ہے۔

ICE حکام کا کہنا ہے کہ پارا ہرنینڈز بھاگتے ہوئے خود ICE کی گاڑی کے سامنے آ گیا تھا جس کے بعد فوری طور پر ایمرجنسی طبی امداد (EMS) فراہم کی گئی۔ ہیریس کاؤنٹی شیرف آفس اور ڈسٹرکٹ اٹارنی آفس اس واقعے کی شفاف تحقیقات کر رہے ہیں۔

متواتر حادثات اور تنقید کے بعد ICE نے نئی ہدایت نامہ جاری کیا ہے جس کے تحت صرف انہی افسران کو گاڑیاں روکنے کی اجازت ہوگی جنہوں نے مخصوص تربیت حاصل کر رکھی ہو اور ان کی گاڑیوں پر سائرن اور لائٹس کا ہونا لازمی قرار دیا گیا ہے۔