اسٹاک ہوم / واشنگٹن: اسٹاک ہوم میں ‘رائل سویڈش اکیڈمی آف سائنسز’ نے سال 2026 کے معیشت کے نوبل انعام (Sveriges Riksbank Prize in Economic Sciences) کا باضابطہ اعلان کر دیا ہے۔
یہ باوقار عالمی اعزاز امریکی ماہرینِ معیشت اور پروفیسر رابرٹ ای ہال (Robert E. Hall) اور مائیکل ووڈ فورڈ (Michael Woodford) کو مشترکہ طور پر دیا گیا ہے۔
اکیڈمی نے اپنے جاری کردہ تحریری بیان میں بتایا کہ دونوں ماہرین کو یہ انعام جدید معاشی ماڈلز کی تشکیل پر دیا گیا ہے، جنہوں نے عالمی حکومتوں اور مرکزی بنکوں (Central Banks) کو معاشی اتار چڑھاؤ اور بیرونی دھچکوں (External Shocks) سے نمٹنے اور معیشت کو مستحکم رکھنے کے لیے ٹھوس سائنسی بنیادیں فراہم کیں۔
پروفیسر رابرٹ ای ہال: 1943 میں پالو آلٹو، کیلیفورنیا میں پیدا ہونے والے رابرٹ ہال اس وقت دنیا کی نامور اسٹینفورڈ یونیورسٹی (Stanford University) میں پروفیسر ہیں۔
پروفیسر مائیکل ووڈ فورڈ: 1955 میں میساچوسٹس میں پیدا ہونے والے مائیکل ووڈ فورڈ مشہور کولمبیا یونیورسٹی (Columbia University) میں تدریسی خدمات انجام دے رہے ہیں۔
روایتی میکرو اکنامکس (Macroeconomics) پر انحصار کرنے کے بجائے دونوں ماہرین نے مائیکرو اکنامکس (Microeconomics) کے ذریعے یہ ثابت کیا کہ انفرادی فیصلے اور کاروباری ادارے “مستقبل بین” (Forward-looking) ہوتے ہیں۔
مرکزی بینک اور حکومتیں اپنی مالیاتی پالیسیوں اور مؤثر مواصلت (Communication) کے ذریعے ان کے فیصلوں کو مثبت سمت میں موڑ سکتی ہیں۔
دونوں نوبل انعام یافتہ ماہرین میں مجموعی طور پر 60 لاکھ سویڈش کرونر (تقریباً 598,000 امریکی ڈالر) فی کس انعامی رقم تقسیم کی جائے گی۔
اس سال کے نوبل انعامات کے سلسلے میں جمعے کے روز جنوبی افریقی جج نوی پیلے (Navi Pillay) کو امن کا نوبل انعام اور کینیڈین مصنفہ این کارسن (Anne Carson) کو ادب کا نوبل انعام دیا گیا، جس کے بعد اکنامکس کے اس اعزاز کے ساتھ 2026 کا نوبل سیزن مکمل ہو گیا ہے۔





