نیویارک : نیویارک میئر زوہران مامدانی (Zohran Mamdani) نے نیویارک پولیس ڈیپارٹمنٹ (NYPD) کی جانب سے ‘استعمالِ طاقت’ (Use-of-Force) کی پالیسیوں اور طریقہ کار کا ایک جامع اور تفصیلی جائزہ (Comprehensive Review) لینے کا بڑا اعلان کر دیا ہے۔
گزشتہ ایک دہائی میں اپنی نوعیت کا یہ پہلا جائزہ ہوگا جو آنے والے مہینوں میں عوام اور مقامی کمیونٹی کی مشاورت سے مکمل کیا جائے گا۔
پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے میئر زوہران مامدانی نے کہا کہ “جب بھی حکومت کسی شہری کے خلاف طاقت کا استعمال کرتی ہے تو شفافیت اور جوابدہی کا معیار بلند ترین ہونا چاہیے۔
ہر نیویارکر کو اس بات کا یقین ہونا چاہیے کہ پولیس کی جانب سے طاقت کا استعمال قانونی، انتہائی احتیاط سے اور صرف اور صرف ناگزیر حالات میں کیا جائے گا”۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس جائزہ کا بنیادی مقصد یہ دیکھنا ہے کہ آیا پولیس افسران کو ذہنی مسائل کا شکار یا بحرانی کیفیت میں مبتلا افراد سے نمٹنے کی صحیح تربیت اور رہنمائی میسر ہے یا نہیں۔
یہ اعلان 19 سالہ ون روزاریو (Win Rozario) کیس کے بعد سامنے آیا ہے، جسے مارچ 2024 میں ذہنی تناؤ کے دوران پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔ اس کیس میں ملوث پولیس افسر نے ڈسپلنری ٹرائل کا سامنا کیے بغیر ہی حال ہی میں ریٹائرمنٹ لے لی تھی، جبکہ رواں سال اپریل میں بھی دو پولیس افسران کی جانب سے ایک شہری کو تشدد کا نشانہ بنانے کی ویڈیوز سامنے آنے پر تحقیقات جاری ہیں۔
انسپکٹر جنرل فار دی NYPD کے دفتر کے لیے 2.6 ملین ڈالر کے اضافی فنڈز کی منظوری دی گئی ہے جس سے عملے کی تعداد تین گنا بڑھ جائے گی۔
ایک نیا سسٹم نافذ کیا گیا ہے تاکہ کسی بھی افسر پر سنگین الزامات کی صورت میں اس کی ریٹائرمنٹ سے قبل ڈسپلنری کارروائی مکمل کی جا سکے۔
اگر کوئی افسر تادیبی کارروائی کے دوران ریٹائر ہوتا ہے تو اس کی معلومات اسٹیٹ ڈویژن کو بھیجی جائیں گی تاکہ وہ نیویارک کی کسی دوسری پولیس یا لا انفورسمنٹ ایجنسی میں نوکری حاصل نہ کر سکے۔
STAT ایکٹ کے تحت پولیس کے ہاتھوں ہونے والی ہلاکتوں کا ڈیٹا بروقت متعلقہ ریاستی اداروں کو بھیجنا لازمی رہے گا۔
ہلاکت یا شدید زخمی ہونے کے واقعات میں متاثرہ خاندانوں کو معلومات فراہم کرنے اور فورس انویسٹی گیشن ڈویژن کی حتمی رپورٹ تک رسائی کا رسمی طریقہ کار وضع کر دیا گیا ہے۔





