واشنگٹن : امریکی محکمہ انصاف (DOJ) نے اعلان کیا ہے کہ اس نے وائٹ ہاؤس کے ‘ٹیلی ویژن پریس پول’ کے خلاف تجارتی اور اینٹی ٹرسٹ (Antitrust) قوانین کی خلاف ورزی کی باضابطہ تحقیقات کا آغاز کر دیا ہے۔
یہ قدم ان میڈیا نیٹ ورکس کی جانب سے گزشتہ ماہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی کوریج کو ہنگامی طور پر روکنے اور بائیکاٹ کرنے کے ردِعمل میں اٹھایا گیا ہے۔
محکمہ انصاف کے ترجمان کا کہنا ہے کہ “تجارتی حریفوں اور نیوز آرگنائزیشنز کی جانب سے مل کر کسی کا بائیکاٹ کرنا امریکی اینٹی ٹرسٹ قوانین کی سنگین خلاف ورزی ہو سکتا ہے، اسی لیے اینٹی ٹرسٹ ڈویژن یہ معلوم کرنے کے لیے تحقیقات کر رہا ہے کہ آیا ان تمام نیٹ ورکس نے مل کر غیر قانونی اقدام تو نہیں کیا”۔
واضح رہے کہ وائٹ ہاؤس پریس پول میں ABC، CBS، CNN، Fox اور NBC جیسے 5 بڑے امریکی نشریاتی ادارے شامل ہیں۔
تنازع کا آغاز 19 ستمبر کو اس وقت ہوا جب وائٹ ہاؤس نے CNN، Politico، اور MS Now کے صحافیوں کے داخلے اور پریس پاسز پر پابندی عائد کرتے ہوئے کہا کہ “صدر کی کوریج کرنا ایک رعایت (Privilege) ہے، کوئی آئینی حق نہیں”۔
تینوں اداروں پر پابندی کے احتجاج میں 5 بڑے ٹی وی نیٹ ورکس کے مشترکہ ‘پریس پول’ نے احتجاجاً صدر ٹرمپ کی تمام تر کوریج روک دی تھی۔ اگرچہ بعد میں عدالت کی مداخلت پر پاسز بحال کر دیے گئے اور کوریج دوبارہ شروع ہو گئی۔
‘کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹس’ (CPJ) کے ڈائریکٹر برائے امریکہ، ہوزے زامورا (Jose Zamora) نے محکمہ انصاف کی تحقیقات پر شدید تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر لکھا کہ “حکومت کو صحافتی آزادی اور پریس تک رسائی کا دفاع کرنے والے میڈیا ہاؤسز کو ہراساں کرنے کے لیے اینٹی ٹرسٹ تحقیقات کو ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کرنا چاہیے”۔





