لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

غیرمصدقہ ڈاکٹرکےاینٹی ایجنگ انجکشن سے لڑکی کی ہلاکت،مرڈر(قتل)کےمقدمےمیں گرفتاری

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

نیویارک / برونکس:امریکی ریاست نیوجرسی کے 56 سالہ رہائشی اور غیر قانونی طور پر طبی پریکٹس کرنے والے شخص لوئس روزاس کیبریرا (Luis Rojas Cabrera) کو ایک 27 سالہ لڑکی کو ہلاک کرنے کے جرم میں خودسپردگی کے بعد اب باضابطہ طور پر مرڈر (قتل) کے مقدمے کا سامنا ہے۔

برونکس کے ڈسٹرکٹ اٹارنی اور پولیس حکام کے مطابق، کیبریرا پر پہلے سے ہی غیر قانونی پریکٹس اور انسانی زندگی کو خطرے میں ڈالنے کے الزامات کے تحت مقدمہ چل رہا تھا، جس میں اس نے پہلے عدم صحتِ جرم کا اعتراف کیا تھا، لیکن طبی رپورٹ اور مزید تحقیقات کے بعد اب اس پر قتل کی سنگین دفعات شامل کر دی گئی ہیں۔

مقتولہ 27 سالہ الیزبتھ بارون (Elizabeth Baron) کو برونکس کے ریورڈیل ایونیو پر واقع ‘بیریشٹ لائف اسٹائل سینٹر’ میں اینٹی ایجنگ علاج کے نام پر ایک IV انجکشن دیا گیا تھا، جس کے فوراً بعد ان کی طبعیت بگڑ گئی اور وہ بے ہوش ہو گئیں۔

الیزبتھ بارون کو کیبریرا نے ہاتھ میں NAD+ (Nicotinamide Adenine Dinucleotide) کی ڈرپ لگائی تھی، جو انسانی جسم میں توانائی پیدا کرنے کے لیے قدرتی طور پر پایا جاتا ہے اور اینٹی ایجنگ تھراپی کے طور پر مارکیٹ کیا جاتا ہے۔

میڈیکل ایگزامینر کی رپورٹ کے مطابق، الیزبتھ بارون کی موت ‘کارڈیاک ایئر ایمبولزم’ (Cardiac Air Embolism) کے باعث ہوئی، یعنی ڈرپ کے ذریعے خون کی نالیوں میں ہوا کے بلبلے داخل ہونے سے دل تک خون کی فراہمی منقطع ہو گئی تھی۔

عدالت میں جمع کروائی گئی پولیس رپورٹ کے مطابق، کیبریرا نے تفتیش کاروں کو بتایا: “میں نے اسے NAD+ کا IV انجکشن دیا تھا اور وہ فوری طور پر بے ہوش ہو گئی۔ میں نے فوراً 911 پر کال کی۔ مجھ سے بہت بڑی غلطی ہو گئی۔”

حکام کے مطابق، کیبریرا کے پاس ڈومینیکن ریپبلک کی طبی ڈگری اور لائسنس موجود ہے، لیکن اس کے پاس نیویارک یا پورے امریکہ میں ڈاکٹری یا طبی علاج کا کوئی قانونی لائسنس موجود نہیں تھا۔