لوڈ ہو رہا ہے...
00:00:00
ہیڈ لائنز

اقوامِ متحدہ کابڑااقدام:مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں سےمنسلک مزید61 کمپنیوں کوبلیک لسٹ کردیاگیا

لنک کاپی ہو گیا ہے!

John Doe

جنیوا: اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے دفتر (OHCHR) نے مقبوضہ مغربی کنارے میں غیر قانونی اسرائیلی بستیوں کے ساتھ کاروباری روابط رکھنے اور فلسطینیوں کے انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں میں ملوث ہونے کی بنا پر مزید 61 کمپنیوں کو اپنی بلیک لسٹ میں شامل کر دیا ہے۔ اس طرح بلیک لسٹ کی گئی کل کمپنیوں کی تعداد 214 ہو گئی ہے جو دنیا کے 11 ممالک میں قائم ہیں۔

ان 214 کمپنیوں میں سے اکثریت اسرائیلی کمپنیوں کی ہے۔ رپورٹ کے مطابق پچھلے سال کی فہرست میں شامل 158 کمپنیوں میں سے 5 کمپنیوں کے نام اس تازہ ترین اپ ڈیٹ میں نکال دیے گئے ہیں۔

اقوامِ متحدہ کے انسانی حقوق کے سربراہ وولکر ترک (Volker Türk) نے اپنے بیان میں کہا: “یہ رپورٹ کمپنیوں کے لیے ایک بار پھر یاد دہانی ہے کہ ان پر انسانی حقوق کی ذمہ داریاں عائد ہوتی ہیں اور ان سے توقع کی جاتی ہے کہ وہ اس بات کو یقینی بنائیں کہ وہ انسانی حقوق کی پامالیوں میں ملوث نہ ہوں۔”

اقوامِ متحدہ کی انسانی حقوق کونسل کی جانب سے 2020 میں پہلی بار شائع کی جانے والی اس فہرست کا بنیادی مقصد ان کمپنیوں کو بے نقاب کرنا (Name and Shame) ہے جو مقبوضہ علاقوں میں غیر قانونی بستیوں کو معاشی فائدہ پہنچا رہی ہیں۔

جنیوا میں اسرائیلی سفارتی مشن نے اس فہرست کو ‘مکمل طور پر مسترد’ کرتے ہوئے کہا کہ “یہ ڈیٹا بیس ان کمپنیوں کے خلاف ایک بلیک لسٹ کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے جنہوں نے کوئی غلط کام نہیں کیا۔ ہم دوست ممالک سے اپیل کرتے ہیں کہ وہ اس کوشش کا حصہ نہ بنیں۔”

یہ پیش رفت ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب برطانیہ نے مقبوضہ مغربی کنارے میں اسرائیلی بستیوں کے ساتھ تجارت پر مکمل پابندی عائد کر دی ہے، جہاں اس کے بقول “آبادکار دہشت گرد” فلسطینیوں کی “نسلی کشی” کر رہے ہیں۔ فرانس اور کینیڈا نے بھی ایسے ہی اقدامات کا اعلان کیا ہے۔