دبئی/واشنگٹن: عالمی شپنگ ڈیٹا کے مطابق گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہ، آبنائے ہرمز (Strait of Hormuz) سے صرف پانچ جہاز گزر سکے ہیں۔ یہ تعداد جنگ سے پہلے کی روزانہ کی اوسط (140 جہاز) کے مقابلے میں نہ ہونے کے برابر ہے۔
امریکہ اور ایران کے درمیان عارضی جنگ بندی کے باوجود، ایران کی جانب سے دو مال بردار جہازوں کو قبضے میں لینے اور امریکہ کی جانب سے ایرانی بندرگاہوں کی ناکہ بندی نے بحری کمپنیوں میں خوف و ہراس پھیلا دیا ہے۔
ماہرین کا کہنا ہے کہ جب تک دونوں اطراف سے مکمل سیکیورٹی کی ضمانت نہیں ملتی، عالمی تجارتی جہاز اس راستے کو استعمال کرنے سے گریز کریں گے۔
رپورٹ کے اہم نکات:
محدود نقل و حمل: جمعہ کو گزرنے والے چند جہازوں میں ایرانی ٹینکر ‘نیکی’ (Niki) شامل تھا، جو امریکی پابندیوں کی زد میں ہے۔
آبنائے ہرمز کی بندش سے دنیا کی 20 فیصد تیل اور ایل این جی (LNG) کی سپلائی متاثر ہوئی ہے، جس نے عالمی سطح پر توانائی کا بحران پیدا کر دیا ہے۔
اس وقت خلیج کے اندر سینکڑوں بحری جہاز اور تقریباً 20,000 ملاح محصور ہیں، جو راستہ کھلنے کے منتظر ہیں۔
شپنگ ایسوسی ایشن BIMCO کے مطابق، موجودہ متبادل راستے اتنے تنگ ہیں کہ وہ عالمی تجارت کے بھاری حجم کا بوجھ برداشت نہیں کر سکتے۔





