اوٹاوا / واشنگٹن (ویب ڈیسک): صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے کینیڈا کے خلاف بڑھتے ہوئے تجارتی تنازع (Trade Dispute) اور تقریباً 20 ارب ڈالر مالیت کی مصنوعات پر بھاری امریکی ٹیرف (Tariffs) کے بعد سرحد پار کینیڈین معیشت پر شدید دباؤ آ گیا ہے۔
ان سخت معاشی اقدامات سے روزگار کے مواقع متاثر ہو رہے ہیں اور عام کینیڈین خاندانوں کے مالی اخراجات میں بھی ریکارڈ اضافہ ہوا ہے۔
بینک آف کینیڈا کے اعداد و شمار کے مطابق، امریکی ٹیرف نے کینیڈا کی سٹیل، ایلومینیم، لکڑی (Lumber) اور آٹو موبائل کی صنعتوں کو بری طرح متاثر کیا ہے جو بنیادی طور پر امریکی منڈی پر انحصار کرتی ہیں۔ ٹیرف کے نفاذ کے بعد سے اسٹیل کی برآمدات نصف رہ گئی ہیں جبکہ لکڑی کی برآمدات میں 20 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔
کینیڈین عوام پر دوہرا بوجھ: سرکاری ڈیٹا کے مطابق اگست میں کنزیومر پرائزز میں پچھلے سال کے مقابلے 3 فیصد اضافہ ہوا، جبکہ گروسری کی قیمتیں 2.8 فیصد اور ٹرانسپورٹ کے اخراجات 7.5 فیصد بڑھ گئے ہیں۔ کینیڈا کی جانب سے امریکی مصنوعات پر جوابی ٹیرف (Retaliatory Tariffs) لگانے کی وجہ سے گروسری، الیکٹرانکس، فرنیچر اور گھریلو سامان کی قیمتوں میں مزید 6 فیصد اضافہ ہوا ہے۔
ڈیری سیکٹر اور USMCA کا تنازع: ڈیلٹا اور ‘کنزیومر چوائس سینٹر’ کے ماہر ڈیوڈ کلیمنٹ کے مطابق امریکی انتظامیہ کی کینیڈا کے ڈیرِی سیکٹر (دودھ، مکھن، پنیر) پر ٹیرف کی شکایت بنیادی طور پر درست ہے، کیونکہ کینیڈا امریکی آئٹمز پر بھاری محصولات عائد کرتا ہے۔ تاہم امریکی و یورپی منڈیوں تک رسائی USMCA اور دیگر معاہدو ں کے تحت طے شدہ تھی۔
توانائی کے بحران اور مڈٹرم کا اثر: کاٹو انسٹی ٹیوٹ کے نائب صدر سکاٹ لنسی کوم کا کہنا ہے کہ ٹیرف اور ایران جنگ کے باعث ایندھن اور ڈیزل کی قیمتوں میں اضافے نے صارفین پر “دوہرا بم” (Double Whammy) گرایا ہے۔ انہوں نے متنبہ کیا کہ دنیا کے اس عظیم ترین تجارتی تعلق کو مکمل طور پر نقصان پہنچانے کے بجائے باہمی مذاکرات سے حل کیا جانا چاہیے۔





